شاعری

وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں

وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں زمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوں نہ میں ہوا میں نہ خاک میں ہوں نہ آگ میں ہوں نہ آب میں ہوں شمار میرا نہیں کسی میں اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں اگرچہ پانی کی موج بن کر ہمیشہ میں پیچ و تاب میں ہوں وہی ہوں قطرہ ...

مزید پڑھیے

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث آج سے تیری جستجو ہے عبث سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ آئنہ تیرے روبرو ہے عبث مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا دل عبث دل کی آرزو ہے عبث باد آب آگ خاک گرد روح زشت‌ رویوں میں خوبرو ہے عبث طور‌ و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں کب ترا جلوہ چار سو ہے عبث لپٹے ہیں ...

مزید پڑھیے

کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض

کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض حجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارض نہ رک سکے گی ضیائے عارض جو سد رہ ہو نقاب عارض وہ ہوگی بے پردہ رکھ کے پردا غضب کی چنچل ہے تاب عارض چھپا نہ منہ دونوں ہاتھ سے یوں تڑپتی ہے برق تاب عارض لگا نہ دے آگ انگلیوں میں یہ گرمیٔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5515 سے 5858