چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا
چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا جس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانا کسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا روح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا موت ہی آپ کے بیمار کی قسمت میں نہ تھی ورنہ کب زہر کا ممکن تھا دوا ہو جانا اپنے پہلو میں تجھے دیکھ کے حیرت ہے مجھے خرق عادت ہے ترا وعدہ وفا ہو ...