شاعری

میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں

میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں اس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں مشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں ہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں جاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق چاک دل تار نظر سے جو رفو کرتے ہیں بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ...

مزید پڑھیے

نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند (ردیف .. ر)

نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند کہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر ہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں جو عندلیب کے ہو نالۂ سحر میں اثر کسی کا قول ہے سچ سنگ کو کرے ہے موم رکھا ہے خاص خدا نے یہ سیم و زر میں اثر جو آہ نے فلک پیر کو ہلا ڈالا تو آپ ہی کہیے کہ ہے گا یہ کس اثر ...

مزید پڑھیے

نظم

نہیں میں کسی یونانی المیے کا مرکزی کردار نہیں نہ ہی میں اس لیے بنا تھا میں تو ایک خاموش تماشائی ہوں ہزاروں سال پتھروں میں جکڑے کسی مرکزی کردار کی آنکھیں جب شاہین سے نچوائی جاتی ہیں اور جب وہ درد سے کراہ کر کہتا ہے میں تمام پیار کرنے والوں کے لیے ایک کربناک منظر ہوں یا سالہا سال ...

مزید پڑھیے

شہر

شہر تو اپنے گندے پاؤں پسارے دریا کے کنارے لیٹا ہے اور تیرے سینے پر رینگتی ہوئی چیونٹیاں سورج کو گھور رہی ہیں جب نصف درجن غیر ملکی حکیموں نے مشترکہ طور پر اعلان کیا مرض سنگین ہے اور یہ بہت جلد ہی مر جائے گا تو کسی چیچک زدہ بچے کی طرح تو نے انہیں دیکھا اور خاموش ہو رہا غلیظ بدکار بے ...

مزید پڑھیے

ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے

ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے ابھی سے جی بہت گھبرا رہا ہے دئے بجھنے لگے ہیں طاقچوں میں ہر اک شے پر اندھیرا چھا رہا ہے ہوا شاخوں میں چھپ کر رو رہی ہے نہ جانے کیسا موسم آ رہا ہے ٹھٹھرتی رت میں زخمی انگلیوں سے ہمیں دریا میں سونا ڈھونڈھنا ہے اسی امید پر بن باس کاٹیں ہمیں بھی ایک دن گھر ...

مزید پڑھیے

ریت پر سفر کا لمحہ

کبھی ہم خوبصورت تھے کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت سانس ساکن تھی بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے جو ہم سے دور تھے لیکن ہمارے پاس رہتے تھے نئے دن کی مسافت جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی تو ہم کہتے ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

برق پا لمحوں کی اک زنجیر میں جکڑا ہوا وہ شکستہ پا انہی رستوں سے گزرا اور نادیدہ خداؤں کا ہجوم خندہ زن آنکھوں سے اس کی نارسائی کا تماشا دیکھ کر کہتا رہا تو نے چاہا تھا مگر تیرے مقدر میں نہ تھا جیسے اس کی بے بسی میں وہ کبھی شامل نہ تھے وہ کہاں گم ہو گیا کوئی نقش پا نہیں جس کی ...

مزید پڑھیے

کاٹ گئی کہرے کی چادر سرد ہوا کی تیزی ماپ

کاٹ گئی کہرے کی چادر سرد ہوا کی تیزی ماپ اکڑوں بیٹھا اس وادی کی تنہائی میں تھر تھر کانپ مرمر کی اونچائی چڑھتے پھسلا ہے تو رونا کیا پاؤں پسارے کیچڑ میں اکھڑی سانسوں کی مالا جاپ اڑتے پنچھی پیاسی نظروں کی پہچان سے عاری ہیں تیز ہوئی جاتی ہیں کرنیں تھاپ سہیلی گوبر تھاپ پھوٹی چوڑی ...

مزید پڑھیے

تہ داماں چراغ روشن ہے

تہ داماں چراغ روشن ہے زیست میری بقا کا بچپن ہے شکوۂ ظلم و جور کس سے کریں آدمی آدمی کا دشمن ہے ایک الاؤ ہے یہ دہکتا ہوا تمہیں جس پر گمان گلشن ہے پھنک رہا ہے چمن چمن لیکن آپ فرما رہے ہیں ساون ہے کون ہستی کے سلسلے کو بجھائے ایک سے ایک دیپ روشن ہے زندگی سے کہاں فرار سلامؔ سینۂ ...

مزید پڑھیے

بگاڑ میں بھی بناؤ ہے آدمی کے لئے

بگاڑ میں بھی بناؤ ہے آدمی کے لئے اجڑ رہا ہوں میں اک تازہ زندگی کے لئے بدل گئے ہیں زمانے کے ساتھ حسن کے طور کچھ اور چاہتے اب رسم عاشقی کے لئے یہ سوچ کر کہ عنایت کیا ہوا ہے ترا دعا نہ مانگی کبھی درد میں کمی کے لئے ملاحظہ ہو یہ ایثار پھول ہنس ہنس کر اجڑ رہا ہے کلی کی شگفتگی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5453 سے 5858