ںہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں
نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں کہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیں بچا بچا کے گزرنا ہے دامن ہستی شریک خار بھی کچھ جشن نو بہار میں ہیں کسی جدید تلاطم کا انتظار نہ ہو سنا تو ہے کہ سفینے ابھی قرار میں ہیں پکارتے ہیں کہ دوڑو گزر نہ جائے یہ دور چراغ بجھتے ہوئے سے جو رہ گزار ...