دنیا کبھی ہو سکی نہ ہم راز مری
دنیا کبھی ہو سکی نہ ہم راز مری کیا جانے تھی کس فضا میں پرواز مری لہجہ میں کسی اور کا اپنا نہ سکا لے ڈوبی مجھے منفرد آواز مری
دنیا کبھی ہو سکی نہ ہم راز مری کیا جانے تھی کس فضا میں پرواز مری لہجہ میں کسی اور کا اپنا نہ سکا لے ڈوبی مجھے منفرد آواز مری
ہر شے بہ ہر انداز الگ ہوتی ہے ہر فکر کی پرواز الگ ہوتی ہے ہر عہد کو دیکھ اس کے پس منظر میں ہر عہد کی آواز الگ ہوتی ہے
کس نہج سے ہم نے اک کہانی کہہ دی دو باتوں میں بات دل کی ساری کہہ دی لفظوں کی کفایت بھی ہنر ہے اکبرؔ جب کہہ نہ سکے غزل رباعی کہہ دی
زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز میں سنواروں گا تری زلف پریشاں اک روز گل کھلائے گی نئی موج بہاراں اک روز ٹوٹ ہی جائیں گے قفل در زنداں اک روز کتنے الجھے ہوئے حالات زمانہ ہیں ابھی ہوں گے شانے پہ مرے گیسوئے جاناں اک روز اہل زنداں سے یہ کہہ دو کہ ذرا صبر کریں ہوگا ہر سمت گلستاں ہی ...
بے وفا ہے وہ کبھی پیار نہیں کر سکتا ہاں مگر پیار سے انکار نہیں کر سکتا اپنی ہمت کو جو پتوار نہیں کر سکتا وہ سمندر کو کبھی پار نہیں کر سکتا جو کسی اور کے جلووں کا تمنائی ہو وہ کبھی بھی ترا دیدار نہیں کر سکتا ہونٹ کچھ کہنے کو بیتاب ہیں کب سے لیکن اس کی عادت ہے وہ اظہار نہیں کر ...
اب حسن و عشق کے بھی قصے بدل گئے ہیں منزل تھی ایک لیکن رستے بدل گئے ہیں کس پر یقین کیجے یہ دور مطلبی ہے لگتا ہے خون کے بھی رشتے بدل گئے ہیں آنکھیں بتا رہی ہیں ظاہر ہے حال دل کا وہ بے وفا نہیں تھے کتنے بدل گئے ہیں ہم جانتے ہیں پھر بھی پہچاننا ہے مشکل کچھ دوستوں کے اتنے چہرے بدل گئے ...
ہنس ہنس کر آنسو پی جانا آپ کے بس کی بات نہیں اپنے گھر میں آگ لگانا آپ کے بس کی بات نہیں دیوانوں کی آنکھیں بھی آئینے جیسے ہوتی ہیں دیوانوں سے آنکھ ملانا آپ کے بس کی بات نہیں اب تو موت اٹھائے ہم کو تو شاید ہم اٹھ جائیں ہم کو اپنے در سے اٹھانا آپ کے بس کی بات نہیں ہر اک گام پہ اس کی ...
حد سے گزر نہ جاؤں میں ایسا نہ کیجیے مستی بھری نگاہ سے دیکھا نہ کیجیے پلکوں کو راستوں میں بچھایا نہ کیجیے یوں اپنے انتظار کو رسوا نہ کیجیے پڑھ لیں گے لوگ چہرے سے دل کی کتاب کو اتنا کسی کے بارے میں سوچا نہ کیجیے غیروں پہ اعتبار تو ہے بات دور کی اپنا بھی ہو سکے تو بھروسہ نہ ...
کوئی چودھویں رات کا چاند بن کر تمہارے تصور میں آیا تو ہوگا کسی سے تو کی ہوگی تم نے محبت کسی کو گلے سے لگایا تو ہوگا لبوں سے محبت کا جادو جگا کے بھری بزم میں سب سے نظریں بچا کے نگاہوں کے رستے سے دل میں سما کے کسی نے تمہیں بھی چرایا تو ہوگا تمہارے خیالوں کی انگنائیوں میں مری یاد کے ...
یہ فرش و عرش کیا ہے اللہ جانتا ہے پردوں میں کیا چھپا ہے اللہ جانتا ہے جو بھی برا بھلا ہے اللہ جانتا ہے بندوں کے دل میں کیا ہے اللہ جانتا ہے لاکھ اپنے دل کا سکہ دنیا سے تو چھپائے کھوٹا ہے یا کھرا ہے اللہ جانتا ہے جا کر جہاں سے واپس آتا نہیں ہے کوئی وہ بام کون سا ہے اللہ جانتا ...