در و بست عناصر پارہ پارہ ہونے والا ہے
در و بست عناصر پارہ پارہ ہونے والا ہے جو پہلے ہو چکا ہے پھر دوبارہ ہونے والا ہے گمان مہر میں یہ بات ہی شاید نہیں ہوگی ہویدا خاک سے بھی اک شرارہ ہونے والا ہے کنارہ کر نہ اے دنیا مری ہست زبونی سے کوئی دن میں مرا روشن ستارہ ہونے والا ہے پگھلنے جا رہا ہے پھر سے بحر منجمد کوئی سمندر ...