کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر موسم ہے سرد مہر لہو ہے جماؤ پر چوپال چپ ہے بھیڑ لگی ہے الاؤ پر سب چاندنی سے خوش ہیں کسی کو خبر نہیں پھاہا ہے ماہتاب کا گردوں کے گھاؤ پر اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیں جن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر سورج کے ...