پرستش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں
پرستش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں تیرے بغیر زندگی درد ہے زندگی نہیں دیکھ کے خشک و زرد پھول دل ہے کچھ اس طرح ملول جیسے مری خزاں کے بعد دور بہار ہی نہیں دور تھا اک گزر چکا نشہ تھا اک اتر چکا اب وہ مقام ہے جہاں شکوۂ بے رخی نہیں عشرت خلد کے لیے زاہد کج نظر جھکے مشرب عشق میں تو یہ ...