شاعری

پرستش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں

پرستش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں تیرے بغیر زندگی درد ہے زندگی نہیں دیکھ کے خشک و زرد پھول دل ہے کچھ اس طرح ملول جیسے مری خزاں کے بعد دور بہار ہی نہیں دور تھا اک گزر چکا نشہ تھا اک اتر چکا اب وہ مقام ہے جہاں شکوۂ بے رخی نہیں عشرت خلد کے لیے زاہد کج نظر جھکے مشرب عشق میں تو یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں

کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں مرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیں نہ سرگزشت سفر پوچھ مختصر یہ ہے کہ اپنے نقش قدم ہم نے خود مٹائے ہیں نظر نہ توڑ سکی آنسوؤں کی چلمن کو وہ روز اگرچہ مرے آئینے میں آئے ہیں اس ایک شمع سے اترے ہیں بام و در کے لباس اس ایک لو نے بڑے پھول بن جلائے ...

مزید پڑھیے

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا اسی طرح سے زمانے کو آزمائے جا کسی میں اپنی صفت کے سوا کمال نہیں جدھر اشارۂ فطرت ہو سر جھکائے جا وہ لو رباب سے نکلی دھواں اٹھا دل سے وفا کا راگ اسی دھن میں گنگنائے جا نظر کے ساتھ محبت بدل نہیں سکتی نظر بدل کے محبت کو آزمائے جا خودی عشق نے جس دن ...

مزید پڑھیے

عمر رفتہ کی کہانی کیا ہے

عمر رفتہ کی کہانی کیا ہے ایک تہمت ہے جوانی کیا ہے میرے اشکوں کی روانی دیکھی تیرے خنجر کی روانی کیا ہے تیرے محبوب تبسم کا جواب میری آشفتہ بیانی کیا ہے رات روتے ہوئے گزرے گی ضرور ورنہ یہ دل پہ گرانی کیا ہے دشمن زیست پہ جاں دیتا ہوں اور جینے کی نشانی کیا ہے ہاتھ میں تیغ ہے بل ...

مزید پڑھیے

عشق کی دنیا میں اک ہنگامہ برپا کر دیا

عشق کی دنیا میں اک ہنگامہ برپا کر دیا اے خیال دوست یہ کیا ہو گیا کیا کر دیا ذرے ذرے نے مرا افسانہ سن کر داد دی میں نے وحشت میں جہاں کو تیرا شیدا کر دیا طور پر راہ وفا میں بو دیئے کانٹے کلیم عشق کی وسعت کو مسدود تقاضا کر دیا بستر مشرق سے سورج نے اٹھایا اپنا سر کس نے یہ محفل میں ذکر ...

مزید پڑھیے

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں آغاز حیات کر رہے ہیں ہے حسن کا نام مفت بدنام لوگ اپنی طلب میں مر رہے ہیں غنچوں کی طرح کھلے تھے کچھ لوگ کرنوں کی طرح بکھر رہے ہیں ہے نقش قدم پہ نقش زنجیر دیوانے جدھر گزر رہے ہیں سنتا ہوں کہ آپ کے وفادار انجام وفا سے ڈر رہے ہیں ساحل کو بھی چھوڑتے نہیں ...

مزید پڑھیے

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا شروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد ...

مزید پڑھیے

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے

نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہے وقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہے اور ذکر کیا کیجے اپنے دل کی حالت کا کچھ بگڑتی رہتی ہے کچھ سنبھلتی رہتی ہے ذہن ابھار دیتا ہے نقش حال و ماضی کے ان دنوں طبیعت کچھ یوں بہلتی رہتی ہے تہہ نشین موجیں تو پر سکون رہتی ہیں اور سطح دریا کی موج اچھلتی ...

مزید پڑھیے

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا فاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیا ہے وہی جبر اسیری اور وہی غم کا قفس دل پہ بن آئی تو کیا یہ روح گھبرائی تو کیا اپنی بے تابئ دل کا خود تماشا بن گئے آپ کی محفل کے بنتے ہم تماشائی تو کیا بات تو جب ہے کہ سارا گلستاں ہنسنے لگے فصل گل میں چند ...

مزید پڑھیے

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے

ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئے بے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئے خوابوں کی ناؤ اور سمندر کا مد و جزر ٹکرا کے پاش پاش اسے ہو جانا چاہئے نشتر زنی تو شیوۂ ارباب فن نہیں ان دل جلوں کو بات یہ سمجھانا چاہئے ہو رقص زندگی کے جہنم کے ارد گرد پروانہ بن کے کس لیے جل جانا چاہئے کھودیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4388 سے 5858