نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے
نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے خود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہے آزادئ اندوہ فزا سے ہے رہائی اب میں نے کچھ آرام تہ دام لیا ہے اٹھتی تھیں امنگیں انہیں بڑھنے نہ دیا پھر میں نے دل ناکام سے اک کام لیا ہے جز مشغلۂ نالہ و فریاد نہ تھا کچھ جو کام کہ دل سے سحر و شام لیا ہے خود پوچھ ...