شاعری

یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی

یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی اک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی گل کو برہنہ دیکھ کے جھونکا نسیم کا جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح اور چاندنی صلیب پہ آ کر لٹک ...

مزید پڑھیے

پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والا

پھر وہ دریا ہے کناروں سے چھلکنے والا شہر میں کوئی نہیں آنکھ جھپکنے والا جس سے ہر شاخ پہ پھوٹی ترے آنے کی مہک آم کے پیڑ پہ وہ بور ہے پکنے والا یوں تو آنگن میں چراغوں کی فراوانی ہے بجھتا جاتا ہے وہ اک نام چمکنے والا پھر کہانی میں نشانی کی طرح چھوڑ گیا دل کی دہلیز پہ اک درد دھڑکنے ...

مزید پڑھیے

رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھا

رات کا ہر اک منظر رنجشوں سے بوجھل تھا چاند بھی ادھورا تھا میں بھی نامکمل تھا آنکھ کی منڈیروں پر آرزو نہیں لرزی اک چراغ کی لو سے اک چراغ اوجھل تھا جا ملا ترے در کے گم شدہ زمانوں میں میری عمر کا حاصل پیار کا جو اک پل تھا کیوں سلگتی آوازیں بھیگ بھیگ جاتی تھیں دشت نارسائی میں دھوپ ...

مزید پڑھیے

یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کا

یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کا مرے سر بریدہ خیال ہیں کہ دھواں ہے سونی سرائے کا وہ ہوا کا چپکے سے جھانکنا کسی بھولے بسرے مدار سے کہیں گھر میں شہر کی ظلمتیں کہیں چھت پہ چاند کرائے کا گل ماہ گھومتے چاک پر کف کوزہ گر سے پھسل گئی کہ بساط گردش سال و سن یہی فرق اپنے پرائے ...

مزید پڑھیے

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو

سب رنگ ناتمام ہوں ہلکا لباس ہو شفاف پانیوں پہ کنول کا لباس ہو اشکوں سے بن کے مرثیہ پہنا دیا گیا اب زندگی کے تن پہ غزل کا لباس ہو ہر ایک آدمی کو ملے خلعت بشر ہر ایک جھونپڑی پہ محل کا لباس ہو سن لے جو آنے والے زمانے کی آہٹیں کیسے کہے کہ آج بھی کل کا لباس ہو یا رب کسی صدی کے افق پر ...

مزید پڑھیے

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا

ذہن میں دائرے سے بناتا رہا دور ہی دور سے مسکراتا رہا میں سمندر نہیں چاند کو علم ہے رات بھر پھر بھی مجھ کو بلاتا رہا آنکھ میں خیمہ زن نیلگوں وسعتیں اپنا پہلا قدم ہی خلاؤں میں ہے جو جفا کے جزیرہ نماؤں میں ہے دل کا اس خاک خستہ سے ناتا رہا کج ادائی کی چادر سے منہ ڈھانپ کر سونے والا ...

مزید پڑھیے

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے بس اشتیاق تکلم میں بارہا ہم لوگ جواب دل میں زباں پر سوال رکھتے ...

مزید پڑھیے

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے ساتھ اپنے لے گیا بہتا ہوا پانی مجھے میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے اس طرح قحط ہوا کی زد میں ہے میرا وجود آندھیاں پہچان لیتی ہیں بہ آسانی مجھے بڑھ گیا اس رت میں شاید نکہتوں کا اعتبار دن کے آنگن میں ...

مزید پڑھیے

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا دیئے کی آرزو کو جب بجھایا تھا پھر اس کے بعد آہٹ تھی نہ سایہ تھا اسے جب دیکھنے کے بعد دیکھا تو وہ خود بھی دل ہی دل میں مسکرایا تھا دل و دیوار تھے اک نام کی زد پر کہیں لکھا کہیں میں نے مٹایا تھا ہزاروں اس میں رہنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا چاند جن چار گواہوں کو نظر آیا تھا رنگ پھولوں نے چنے آپ سے ملتے جلتے اور بتاتے بھی نہیں کون ادھر آیا تھا بوند بھی تشنہ ابابیل پہ نازل نہ ہوئی ورنہ بادل تو بلندی سے اتر آیا تھا تو نے دیکھا ہی نہیں ورنہ وفا کا مجرم اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4053 سے 5858