تم خفا کیا ہوئے حیات گئی
تم خفا کیا ہوئے حیات گئی جان تسکین کائنات گئی جب سے مرجھا گئی ہے دل کی کلی رونق گلشن حیات گئی ساقیا صرف اپنے اپنوں پر بس تری چشم التفات گئی ہائے بیچارگیٔ فکر و نظر وہ بھی تا حد ممکنات گئی ایک آنسو کی ترجمانی سے عظمت غم کی ساری بات گئی درد دل میں ہوئی ہے جب سے کمی کیا کہیں لذت ...