سچ
میرے چاروں طرف دائرہ دائرہ اک فسوں حیات طرح دار ہے زندگی گامزن ہے اسی نہج پر سچ کی ترویج میں اور لٹکی ہوئی سر پہ تلوار ہے
میرے چاروں طرف دائرہ دائرہ اک فسوں حیات طرح دار ہے زندگی گامزن ہے اسی نہج پر سچ کی ترویج میں اور لٹکی ہوئی سر پہ تلوار ہے
نیند پلکوں کے سائباں میں نہیں طائر خواب کر گیا پرواز وادیٔ چشم کے افق سے پرے آنکھ محو تصورات حسین ایک ہلچل سی ذہن و دل میں مچی اور نظر اک مقام ٹکتی نہیں خوشبوؤں کے حصار گردش میں ہے سماعت کچھ اس قدر حساس آنکھ کی پتلیوں کے تھامے ہاتھ دوڑتی ہے ادھر سے اس جانب ایک لمحہ اسے قرار ...
ہجوم رنج و الم کئی پیکروں میں ڈھل کر چہار جانب پہ چھا رہا ہے زمین آتش فشاں ہے اور آسمان سے بارش ستم ہے سمندروں میں غضب کے طوفاں سلگتے جلتے ہوئے کٹھن راستوں میں پتھر ہم ان کے نرغے میں استقامت سے چل رہے ہیں قدم قدم گر رہے ہیں گر کر سنبھل رہے ہیں یہ اس کی چاہت کی آزمائش ہے اور بے لوث و ...
ہر دن میں وعدہ کرتا ہوں شام سے پہلے گھر آؤں گا ہر دن کوئی نہ کوئی مشکل کوئی نہ کوئی کام ضروری ہے پتھر بن کر میرے کانچ کے وعدے سارے چشم زدن میں کر دیتا ہے ریزہ ریزہ وعدہ کرتے وقت ہمیشہ میں یہ سوچوں اس کی محبت سارے کاموں سے افضل ہے وہ کہ مری غم خوار ہر اک لمحہ ہر پل ہے کام مگر جب سامنے ...
دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہے کہ آنکھ آنکھ نے آنسو کشید رکھا ہے قتال ظلم و تشدد فساد آگ دھواں ہمارے شہر میں اب کیا مزید رکھا ہے نہ جس سے حل مسائل کی راہ نکلے کوئی اسی کا نام تو گفت و شنید رکھا ہے اڑی ہے جب سے پرندوں کی واپسی کی خبر ہر ایک شخص نے پنجرہ خرید رکھا ہے بتا رہے ہیں ...
گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے دوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائے حجرۂ گریباں میں ہر جواب روشن ہے بس ذرا نگاہوں کا زاویہ بدل جائے آنسوؤں کے بہنے کا یہ اثر تو ہوتا ہے غم ذرا سا ڈھل جائے دل بھی کچھ سنبھل جائے مسئلوں کی گتھی بھی یوں کہاں سلجھتی ہے اک سرا جو ہاتھ آئے دوسرا نکل جائے اس ...
ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے جسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہے ہزار قسم کے الزام اور خاموشی تعلقات کو یوں بھی نبھانا چاہا ہے گرائے جانے لگے ہیں درخت ہر جانب کہ میں نے شاخ پہ اک آشیانہ چاہا ہے ہے کیوں عداوت اغیار ہی کا ذکر یہاں چمن تو اہل چمن نے جلانا چاہا ہے حصار نفرت دور ...
حصول رزق کے ارماں نکالتے گزری حیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزری مسافرت کی صعوبت میں عمر بیت گئی بچی تو پاؤں سے کانٹے نکالتے گزری ہوا نے جشن منائے وہ انتظار کی رات چراغ حجرۂ فرقت سنبھالتے گزری وہ تیز لہر تو ہاتھوں سے لے گئی کشتی پھر اس کے بعد سمندر کھنگالتے گزری رسائی جس کی نہ ...
درون حلقۂ زنجیر ہوں میں شکستہ خواب کی تعبیر ہوں میں مجھے حیرت سے یوں وہ تک رہا ہے کہ جیسے میں نہیں تصویر ہوں میں مری باتیں تو زہریلی بہت ہیں مگر تریاک کی تاثیر ہوں میں میں زندہ ہوں حصار بے حسی میں محبت کی نئی تفسیر ہوں میں اک آئنہ بھی ہوں اور عکس بھی ہوں کہ شہر سنگ کا رہ گیر ...
فریاد نہیں شکر ستم کرتے رہیں گے ہم خود انہیں مجبور کرم کرتے رہیں گے کعبے کو شکایت ہے تو ہو اپنے خدا سے سجدے تو در یار پہ ہم کرتے رہیں گے دنیا کو سنانے کے لئے شعر کی صورت جو ہم پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے مے خانہ سلامت رہے ہم دور سے نشترؔ نظارگیٔ دیر و حرم کرتے رہیں گے