یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھے
یار کی تصویر ہی دکھلا دے اے مانی مجھے کچھ تو ہو اس نزع کی مشکل میں آسانی مجھے اف بھی کر سکتا نہیں اب کروٹیں لینا کجا زخم پہلو سے ہے وہ تکلیف روحانی مجھے زاہد مغرور رونے پر مرے ہنستا ہے کیا بخشوائے گا یہی اشک پشیمانی مجھے دل کو اس پردہ نشیں سے غائبانہ لاگ ہے کھینچ لے گا اک نہ اک ...