سانحہ روز نیا ہو تو غزل کیا کہیے
سانحہ روز نیا ہو تو غزل کیا کہیے ہر طرف حشر بپا ہو تو غزل کیا کہیے بربریت پہ ہی قدغن ہے نہ سفاکی پر رقص ابلیس روا ہو تو غزل کیا کہیے تیر باراں میرے پندار پہ ہیں اہل جفا عزت نفس فنا ہو تو غزل کیا کہیے بولنا بھی یہاں دشوار ہے چپ رہنا بھی قفل ہونٹوں پہ لگا ہو تو غزل کیا کہیے ایک ...