دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے
دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے پیاسا رہا میں کتنے ہی منظر گزر گئے اس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں کتنے حسین آنکھوں سے پیکر گزر گئے کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہو گئے کچھ تیر میرے سینے سے باہر گزر گئے آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں کیا کیا نہ زخم ذات کے اندر گزر گئے اک چوٹ دل ...