مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا
مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا وہ بے نیاز تھا اتنا تو کیوں خدا نہ ہوا شکن ہمیشہ جبیں پر رہے تو عادت ہے مجھے یقیں ہے وہ مجھ سے کبھی خفا نہ ہوا تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا مگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا حجاب حسن سے بڑھتی ہے وار عریانی یہی سبب ہے میں آزردۂ حیا نہ ...