ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میں
ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میں کیا عہد تلخ حفظ مراتب ہے شہر میں ہر ناروا روا ہے بایں نام مصلحت اک کار عشق غیر مناسب ہے شہر میں کس حسن پر تجلی کی ہر چیز ہے اسیر ہیبت یہ کس کے حکم کی غالب ہے شہر میں اک خوف دشمنی جو تعاقب میں سب کے ہے اک حرف لطف جو کہیں غائب ہے شہر میں میں تنہا ...