یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے
یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے بچا ہے تھوڑا سا جو اثاثہ سنبھالنا ہے سوال یہ ہے چھڑا لیں مسئلوں سے دامن کہ ان میں رہ کر ہی کوئی رستہ نکالنا ہے جہان سوداگری میں دل کا وکیل بن کر اس عہد کی منصفی کو حیرت میں ڈالنا ہے جو مجھ میں بیٹھا اڑاتا رہتا ہے نیند میری مجھے اب اس آدمی کو ...