راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں
راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں ہم نے اپنی خاطر ہی خود عذاب ڈھونڈے ہیں یہ تو اس کی عادت ہے روز گل مسلتا ہے آج بھی مسلنے کو کچھ گلاب ڈھونڈے ہیں رات آندھی آنے پر اڑ گئے تھے خیمے سب غافلوں نے مشکل سے کچھ طناب ڈھونڈے ہیں تیری حکمرانی بھی ختم ہونے والی ہے ہم نے کچھ کتابوں میں ...