دل ہے بیمار کیا کرے کوئی
دل ہے بیمار کیا کرے کوئی کس طرح سے دوا کرے کوئی جب کہ تم بن کہیں قرار نہ ہو پھر بتاؤ کہ کیا کرے کوئی وہ نہ اپنی روش کو بدلیں گے چاہے جو کچھ کہا کرے کوئی طاقتوں نے مری جواب دیا اب بتاؤ کہ کیا کرے کوئی بڑھتی جاتی ہیں دھڑکنیں دل کی آ بھی جائے خدا کرے کوئی ان کو فرصت کہاں سنورنے ...