شاعری

اے کاش

مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں تیری نمناک آنکھیں تیرے یہ بیتاب آنسو مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل دل میرا کہتا ہے مجھ سے یہ تیرے اشکوں کے موتی ڈھل کر گرنے سے پہلے انہیں اپنی پلکوں پہ سجا لوں مسکرا کر تم کو دیکھوں اور تمہیں بھی ہنسنے کی ایک وجہ دوں یوں سارے غم تمہارے پل بھر میں بھلا دوں اور ...

مزید پڑھیے

التجا

سکوں کی چھاؤں کے منتظر کب سے کھڑے غموں کی دھوپ میں تپ رہے ہیں دور تک کہیں بھی کوئی چاہت کا سایہ نظر آتا نہیں میرے مالک تو اگر چاہے ذرے کو سورج اور قطرے کو سمندر بھی بنا دے دکھوں کے ہم بہت مارے ہوئے ہیں اب اور امتحاں نہ لے برسا دے ہم پہ رحم کی بارش خدایا

مزید پڑھیے

ایک انوکھا ہیٹ

چوہے نے بلی کو دوڑایا بھاگ کے میرے ہیٹ میں آئی چیونٹی نے ڈانٹا ہاتھی کو بولا ہم بھی ہیں بھائی کتا بولا چوں چوں چوں چڑیا بولی بھوں بھوں بھوں بھوں سات سمندر ہیٹ کے اندر ڈالفن نے غزل سنائی آؤ بھائی ہیٹ میں آؤ سب پرانی ہیں بھائی بھائی

مزید پڑھیے

بلی آئی

بلی آئی بلی آئی ایران سے سیدھے دلی آئی نام تھا اس کا ماہ بانو بچے کہتے اس کو مانو دکھتی تھی وہ شیر کی خالہ ہاتھ سے چھوؤ تو روئی کا گالا آنکھیں نیلی بال سنہرے مانو کے تھے چھکے پنجے چکن کلیجی مٹن قیمہ اس سے پہلے دودھ بھی پینا لاڈ میں وہ تو خوب ہی بگڑی بیٹھے بیٹھے شرارت سوجھی سب بچوں ...

مزید پڑھیے

میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا

میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا کسی نے جو نہیں دیکھے وہ خواب دیکھوں گا وہ وقت آئے گا میری حیات میں جب میں محبتوں کے چمن میں گلاب دیکھوں گا گھرا ہوا ہوں اندھیروں میں غم نہیں مجھ کو شب سیاہ کے بعد آفتاب دیکھوں گا چلیں گے تیز بہت تیری یاد کے جھونکے میں اپنی آنکھ میں جب سیل آب ...

مزید پڑھیے

پر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے

پر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے میں جس طرف بھی جاؤں ہوا میرے ساتھ ہے دنیا میں آج مجھ کو بلاؤں کا ڈر نہیں ہر لمحہ میری ماں کی دعا میرے ساتھ ہے دشوار راستوں میں حفاظت کرے گا وہ میں مطمئن ہوں میرا خدا میرے ساتھ ہے برسے گی آج دل کی زمیں پر یہ ٹوٹ کر گویا زمانؔ غم کی گھٹا میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

تری یادوں نے تنہا کر دیا ہے

تری یادوں نے تنہا کر دیا ہے مجھے اندر سے صحرا کر دیا ہے خفا ہو کر شعاع مہر نے بھی مرے آنگن کو سونا کر دیا ہے سیاہی کس کی نظروں میں بھری ہے دلوں کو کس نے کالا کر دیا ہے یہ کس نے آئینوں پر گرد پھینکی ہر اک منظر کو دھندلا کر دیا ہے کسی بھی شاخ پر پتا نہیں ہے ہوا نے سب کو ننگا کر دیا ...

مزید پڑھیے

نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے

نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے بیاباں میں سمندر بس گیا ہے چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر وہ میرے دل میں آ کر بس گیا ہے مہک اٹھا تصور کا جہاں بھی کوئی خوشبو کا پیکر بس گیا ہے جو تنہائی کے صحرا کا مکیں تھا زماںؔ آج اس کا بھی گھر بس ...

مزید پڑھیے

خواب ستارے ہوتے ہوں گے لیکن آنکھیں ریت

خواب ستارے ہوتے ہوں گے لیکن آنکھیں ریت دن دریاؤں کے ہمجولی ہیں اور راتیں ریت ایک فقیر نے میری جانب دیکھا اور پھر میں مٹی کی ڈھیری کی صورت تھا اور سانسیں ریت میں سرسبز جزیرے جیسا تھا پر دشت ہوا اس نے مجھ سے اتنا کہا تھا تیری باتیں ریت موتی ٹوٹنے لگتے ہیں جب پتھر بات کریں آئینوں ...

مزید پڑھیے

کبھی ذلت کبھی رسوائی نہیں دیکھی ہے

کبھی ذلت کبھی رسوائی نہیں دیکھی ہے عشق والوں نے تو پسپائی نہیں دیکھی ہے حسن یوسف کے مجھے قصے سنانے والے تو نے چاہت یہ زلیخائی نہیں دیکھی ہے اس نے چہرے پہ قصیدے تو بہت لکھے ہیں لیکن اس دل پہ جمی کائی نہیں دیکھی ہے مل کے بانٹا تھا اثاثہ جو کبھی بھائیوں نے ساتھ کھیلی تھی جو ماں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 226 سے 5858