شاعری

کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے

کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے کیوں نگاہوں میں گفتگو نہ رہے عشق ہے منتہائے محویت آرزو کی بھی آرزو نہ رہے زندگی یہ کہ وہ تجھے چاہیں موت ہے یہ کہ آبرو نہ رہے بندگی ہے سپردگئ تمام ان کی مرضی میں گفتگو نہ رہے تم جو بیٹھے ہو چھپ کے پردوں میں چشم کیوں محو رنگ و بو نہ رہے دل کا ہر بار ...

مزید پڑھیے

حقیقت

اس دنیا سے کبھی دل نہ لگانا تم اس دنیا پر فریفتہ نہ ہونا تم یہ رنگینیاں یہ مستیاں سب عالم فانی ہے یاد رکھنا تم حسن ظاہر سے دھوکا نہ کھانا یہ کوچ کر جانے کا گھر ہے ٹھکانہ نہیں ہے یہ سدا کا غافل نہ ہو راستہ مختصر ہے زندگی یہ امتحاں کی ڈگر ہے فنا ہو جائے گی آخر یہی اس کی حقیقت ہے رہے ...

مزید پڑھیے

انمول چاہت

گم صم سی جب بھی اداس ہوتی ہوں چپکے سے چلا آتا ہے وہ دھیرے سے مسکراتا ہے اور دل میں سما جاتا ہے وہ اپنی رس بھری آواز میں میٹھی میٹھی باتوں سے دل کو بہلاتا ہے وہ اور دھیمے سے کہتا ہے کہ کر لو میرا یقین میں ہی تمہاری چاہت ہوں پیار سے کر لو مجھے قبول کیوں کہ میں ہی تمہاری انمول چاہت ...

مزید پڑھیے

تم سچ میں بہت اچھی ہو

تمہارا یہ پیار بھرا جملہ مجھے زندگی جینا آسان بناتا ہے میری کمہلائی ہوئی زندگی کو تر و تازگی سی بخشتا ہے تمہارے پیار بھرے الفاظ کانوں میں رس گھولنے لگتے ہیں آنکھوں میں اک چمک سی آ جاتی ہے ہونٹوں پہ مسکان چھا جاتی ہے تم جب بھی مجھ سے یہ کہتے ہو کہ تم سچ میں بہت اچھی ہو میری بے جان ...

مزید پڑھیے

احتساب

تنہائی میں اکثر سوچا کرتی ہوں موت کیا اور حیات کیا ہے حاصل اور لا حاصل کے کیا معنی زندگی کے سفر میں چلتے چلتے ایک دن موت سے ٹکرائیں گے لڑکھڑائیں گے اور کچھ وقفے کے لیے دم لے کر آگے چلیں گے موت صرف ایک وقفہ ہے اور پھر سے حیات کا سفر ہوگا جاری جو عارضی نہیں دائمی ہوگا کبھی نہ ختم ...

مزید پڑھیے

سنگ بنیاد

کتنی بے نور تھی حیات میری راہ کا تھا پتہ نہ منزل کا پھر بھی اک اجنبی سا خوف دل میں لئے میں نے تم کو شریک غم مانا اور شریک حیات بھی جانا دونوں ایک دوسرے کو جان گئے ایک ملاقات صاف و سنجیدہ سنگ بنیاد زیست کہلائی

مزید پڑھیے

خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے

خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے کھلی فضا کی تمنا تھی اور قفس میں رہے بچھڑ کے مجھ سے عذاب ان پہ بھی بہت گزرے وہ مطمئن نہ کسی پل کسی برس میں رہے میں ایک عمر سے ان کو تلاش کرتا ہوں کچھ ایسے لمحے تھے جو اپنی دسترس میں رہے لہو کا ذائقہ کڑوا سا لگ رہا ہے مجھے میں چاہتا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

ماں

آج اندھیرے میں یوں اچانک یاد آ گئیں مجھ کو میری پیاری سی شفیق ماں میں نے دیکھا جب ایک موم بتی کو پگھل کر روشنی دیتے ہوئے

مزید پڑھیے

یادیں

یہ اچانک میری آنکھیں شبنمی کیوں ہو جاتی ہیں شاید یہ یادیں ہیں ان کی جو بچھڑ گئے تنہا لمحوں میں شبنم کی صورت چپکے سے میری پلکوں کو بھگو جاتی ہیں

مزید پڑھیے

رشتہ

ایک سایہ سا جو سائے کی طرح ہر پل میرے ساتھ رہتا ہے اور دو خوب صورت آنکھیں ہمیشہ میرا تعاقب کرتی ہیں ایک پر کشش آواز بلاتی ہے مجھ کو بار بار ایک پیارا سا وجود رہتا ہے میرے آس پاس اس انجانے سے حصار میں ہر پل مقید ہوں میں ایسا لگتا ہے جیسے میں ساز ہوں اور وہ ایک آواز رشتہ یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 225 سے 5858