کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے
کیوں وہ محبوب رو بہ رو نہ رہے کیوں نگاہوں میں گفتگو نہ رہے عشق ہے منتہائے محویت آرزو کی بھی آرزو نہ رہے زندگی یہ کہ وہ تجھے چاہیں موت ہے یہ کہ آبرو نہ رہے بندگی ہے سپردگئ تمام ان کی مرضی میں گفتگو نہ رہے تم جو بیٹھے ہو چھپ کے پردوں میں چشم کیوں محو رنگ و بو نہ رہے دل کا ہر بار ...