رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی
رات دمکتی ہے رہ رہ کر مدھم سی کھلے ہوئے صحرا کے ہاتھ پہ نیلم سی اپنی جگہ ساحل سا ٹھہرا غم تیرا دل کے دریا میں اک ہلچل پیہم سی لمبی رات گزر جائے تعبیروں میں اس کا پیکر ایک کہانی مبہم سی اپنی لگاوٹ کو وہ چھپانا جانتا ہے آگ اتنی ہے اور ٹھنڈک ہے شبنم سی میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا ...