مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے
مرنے کا سکھ جینے کی آسانی دے انداتا کیسا ہے آگ نہ پانی دے اس دھرتی پر ہریالی کی جوت جگا کالے میگھا پانی دے گردانی دے بند افلاک کی دیواروں میں روزن کر کوئی تو منظر مجھ کو امکانی دے میرے دل پر کھول کتابوں کے اسرار میری آنکھ کو اپنی صاف نشانی دے ارض و سما کے پس منظر سے سامنے آ دل ...