طلوع
کسے یقیں تھا کہ پلٹے گی رات کی کایا کٹی تو رات مگر ایک ایک پل گن گن افق پہ آئی بھی تھی سرخیٔ سحر لیکن سحر کے ساتھ ہی ابر سیاہ بھی آیا سحر کے ساتھ ہی حد نگاہ تک چھایا یہ کیا غضب ہے کہ اب تیرہ تر ہے رات سے دن زمانہ شوخ شعاعو اداس ہے تم بن بس اک جھلک کہ اٹھے سر سے یہ گھنا سایا یہ ڈر بھی ہے ...