ہم
1 بچھی ہوئی ہے بساط کب سے زمانہ شاطر ہے اور ہم اس بساط کے زشت و خوب خانوں میں دست نادیدہ کے اشاروں پہ چل رہے ہیں بچھی ہوئی ہے بساط ازل سے بچھی ہوئی ہے بساط جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا ہے بساط ایسا خلا ہے جو وسعت تصور سے ماورا ہے کرشمۂ کائنات کیا ہے بساط پر آتے جاتے مہروں کا سلسلہ ...