شاعری

مچھلیوں کے ماسٹر جی

ننھی ہو تم بچی ہو تم سب عقل کی کچی ہو تم آؤ مری باتیں سنو چالیں سنو گھاتیں سنو استاد کی ہر بات کو اپنی گرہ میں باندھ لو جب تم جواں ہو جاؤ گی مچھلی کی ماں ہو جاؤ گی پھر یاد آئیں گی تمہیں لہرے دکھائیں گی تمہیں باتیں ہماری مچھلیو اے پیاری پیاری مچھلیو روہو کی بیٹی کان دھر سانول کی بچی ...

مزید پڑھیے

سخت گیر آقا

ایک بے تکی نظم آج بستر ہی میں ہوں کر دیا ہے آج میرے مضمحل اعضا نے اظہار بغاوت برملا میرا جسم ناتواں میرا غلام باوفا واقعی معلوم ہوتا ہے تھکا ہارا ہوا اور میں ایک سخت گیر آقا۔۔۔ زمانے کا غلام کس قدر مجبور ہوں پیٹ پوجا کے لیے دو قدم بھی اٹھ کے جا سکتا نہیں میرے چا کر پاؤں شل ہیں جھک ...

مزید پڑھیے

فرصت کی تمنا میں

یوں وقت گزرتا ہے فرصت کی تمنا میں جس طرح کوئی پتا بہتا ہوا دریا میں ساحل کے قریب آ کر چاہے کہ ٹھہر جاؤں اور سیر ذرا کر لوں اس عکس مشجر کی جو دامن دریا پر زیبائش دریا ہے یا باد کا وہ جھونکا جو وقف روانی ہے اک باغ کے گوشے میں چاہے کہ یہاں دم لوں دامن کو ذرا بھر لوں اس پھول کی خوشبو ...

مزید پڑھیے

کوا

آگے پیچھے دائیں بائیں کائیں کائیں کائیں کائیں صبح سویرے نور کے تڑکے منہ دھو دھا کر ننھے لڑکے بیٹھتے ہیں جب کھانا کھانے کوے لگتے ہیں منڈلانے توبہ توبہ ڈھیٹ ہیں کتنے کوے ہیں یا کالے فتنے لاکھ ہنکاؤ لاکھ اڑاؤ منہ سے چیخو ہاتھ ہلاؤ گھورو گھڑکو یا دھتکارو کوئی چیز اٹھا کر مارو کوے ...

مزید پڑھیے

توبہ نامہ

اف وہ راوی کا کنارہ وہ گھٹا چھائی ہوئی شام کے دامن میں سبزے پر بہار آئی ہوئی وہ شفق کے بادلوں میں نیلگوں سرخی کا رنگ اور راوی کی طلائی نقرئی لہروں میں جنگ شہ درے میں آم کے پیڑوں پہ کوئل کی پکار ڈالیوں پر سبز پتوں سرخ پھولوں کا نکھار وہ گلابی عکس میں ڈوبی ہوئی چشم حباب اور نشے ...

مزید پڑھیے

عید

چاند جب عید کا نظر آیا حال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کا آسماں پر ہوائیاں چھوٹیں نوبتیں مسجدوں میں بجنے لگیں شکر سب خاص و عام کرنے لگے اور باہم سلام کرنے لگے ننھے بچے ہیں خاص کر مسرور کہتے ہیں عید اب ہے کتنی دور مائیں کہتی ہیں کچھ نہیں اب دور صبح آ جائے گی یہاں پہ ضرور آؤ کھا پی کے سو ...

مزید پڑھیے

دھنک

آج بادل خوب برسا اور برس کر کھل گیا گلستاں کی ڈالی ڈالی پتا پتا دھل گیا دیکھنا کیا دھل گیا سارے کا سارا آسماں اودا اودا نیلا نیلا پیارا پیارا آسماں ہٹ گیا بادل کا پردہ مل گئی کرنوں کو راہ سلطنت پر اپنی پھر خورشید نے ڈالی نگاہ دھوپ میں ہے گھاس پر پانی کے قطروں کی چمک مات ہے اس وقت ...

مزید پڑھیے

بسنتی ترانہ

لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی چلو بے درنگ لب آب گنگ بجے جل ترنگ من پر امنگ چھائی پھولوں پہ رنگ لائی لو پھر بسنت آئی آفت گئی خزاں کی قسمت پھری جہاں کی چلے مے گسار سوئے لالہ زار مئے پردہ دار شیشے کے در سے جھانکی قسمت پھری جہاں کی آفت گئی خزاں کی کھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر ...

مزید پڑھیے

میری شاعری

مری شاعری ہے نظاروں کی دنیا یہ نغمہ سرا جوئباروں کی دنیا یہ ہنگامہ زار آبشاروں کی دنیا فلک آشنا کوہساروں کی دنیا یہ پھولوں کی بستی بہاروں کی دنیا یہی ہے مرے شاہ کاروں کی دنیا مری شاعری ہے نظاروں کی دنیا مری شاعری چاند تاروں کی دنیا یہ رنگیں گھروندا طلسم زمانہ کھلونوں کا ہے اک ...

مزید پڑھیے

مدرسے کا ایک ہی کمرہ

ماسٹر جی باہر گئے ہیں ماسٹر جی گئے ذرا باہر اب نظر کیا رہے کتابوں پر دل ہی دل میں ہیں سارے لڑکے شاد گویا قیدی تھے اب ہوئے آزاد اب کتابیں کہاں سبق کس کا پڑھنا وڑھنا خیال سے کھسکا ایک ہنستا ہے ایک گاتا ہے اور اک چٹکیاں بجاتا ہے ایک بیٹھے ہی بیٹھے سوتا ہے اور اک جھوٹ موٹ روتا ہے مشورے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 631 سے 960