شاعری

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا بادل تھا اور جل پریوں کے ساتھ رہا کون تھا میں یہ تو مجھ کو معلوم نہیں پھولوں پتوں اور دیوں کے ساتھ رہا ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پر اک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا وہ اک سورج صبح تلک مرے پہلو میں اپنی سب ناراضگیوں کے ساتھ رہا سب نے جانا بہت سبک بے ...

مزید پڑھیے

پتھروں میں آئنا موجود ہے

پتھروں میں آئنا موجود ہے یعنی مجھ میں دوسرا موجود ہے زمزمہ پیرا کوئی تو ہے یہاں صحن گلشن میں ہوا موجود ہے خواب ہو کر رہ گیا اپنے لیے جاگ اٹھنے کی سزا موجود ہے اک سمندر ہے دل عشاق میں جس میں ہر موج بلا موجود ہے آسمانی گھنٹیوں کے شور میں اس بدن کی ہر صدا موجود ہے میں کتاب خاک ...

مزید پڑھیے

بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبارا

بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبارا میں ہار گیا جنگ مگر دل نہیں ہارا روشن ہے مری عمر کے تاریک چمن میں اس کنج ملاقات میں جو وقت گزارا اپنے لیے تجویز کی شمشیر برہنہ اور اس کے لیے شاخ سے اک پھول اتارا کچھ سیکھ لو لفظوں کو برتنے کا سلیقہ اس شغل میں گزرا ہے بہت وقت ہمارا لب کھولے ...

مزید پڑھیے

جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا

جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا ڈوبا ہوا خورشید سمندر سے نکالا ہر چند کہ اس رہ میں تہی دست رہے ہم سودائے محبت نہ مگر سر سے نکالا جب چاند نمودار ہوا دور افق پر ہم نے بھی پری زاد کو پتھر سے نکالا دہکا تھا چمن اور دم صبح کسی نے اک اور ہی مفہوم گل تر سے نکالا اس مرد شفق فام نے اک ...

مزید پڑھیے

اک روز میں بھی باغ عدن کو نکل گیا

اک روز میں بھی باغ عدن کو نکل گیا توڑی جو شاخ رنگ فشاں ہاتھ جل گیا دیوار و سقف و بام نئے لگ رہے ہیں سب یہ شہر چند روز میں کتنا بدل گیا میں سو رہا تھا اور مری خواب گاہ میں اک اژدہا چراغ کی لو کو نگل گیا بچپن کی نیند ٹوٹ گئی اس کی چاپ سے میرے لبوں سے نغمۂ صبح ازل گیا تنہائی کے الاؤ ...

مزید پڑھیے

قسم اس آگ اور پانی کی

قسم اس آگ اور پانی کی موت اچھی ہے بس جوانی کی اور بھی ہیں روایتیں لیکن اک روایت ہے خوں فشانی کی جسے انجام تم سمجھتی ہو ابتدا ہے کسی کہانی کی رنج کی ریت ہے کناروں پر موج گزری تھی شادمانی کی چوم لیں میری انگلیاں ثروتؔ اس نے اتنی تو مہربانی کی

مزید پڑھیے

گردش سیارگاں خوب ہے اپنی جگہ

گردش سیارگاں خوب ہے اپنی جگہ اور یہ اپنا مکاں خوب ہے اپنی جگہ اے دل آشفتہ سر رات اندھیری ہے پر رقص ترا شمع ساں خوب ہے اپنی جگہ کاغذ آتش زدہ تیری حکایت ہی کیا پھر بھی تماشائے جاں خوب ہے اپنی جگہ ہجر نژادوں کا ہے ایک الگ ہی جہاں اس سے نہ ملنا یہاں خوب ہے اپنی جگہ سیر بیاباں و در ...

مزید پڑھیے

دشت لے جائے کہ گھر لے جائے

دشت لے جائے کہ گھر لے جائے تیری آواز جدھر لے جائے اب یہی سوچ رہی ہیں آنکھیں کوئی تا حد نظر لے جائے منزلیں بجھ گئیں چہروں کی طرح اب جدھر راہ گزر لے جائے تیری آشفتہ مزاجی اے دل کیا خبر کون نگر لے جائے سایۂ ابر سے پوچھو ثروتؔ اپنے ہم راہ اگر لے جائے

مزید پڑھیے

رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی

رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی اک صحیفے کی تلاوت ذہن پیغمبر میں تھی آدمی کی بند مٹھی میں ستارہ تھا کوئی ایک جادوئی کہانی صبح کے منتر میں تھی ایک رخش سنگ تھا آتش کدے کے سامنے ایک نیلی موم بتی دست آہن گر میں تھی بیچ میں سوئی ہوئی تھی آتش آیندگاں ایک پیراہن کی ٹھنڈک ...

مزید پڑھیے

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے ہم بھی اپنے خشت زاروں کے لیے آسودگی کا باب ہوتے شہر آزردہ فضا میں آبگینوں کو بروئے کار لاتے شام کی ان خانماں ویرانیوں میں صحبت احباب ہوتے تازہ و غم ناک رکھتے آس اور امید کی سب کونپلوں کو اور پھر ہم راہیٔ باد شبانہ کے لیے مہتاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 882 سے 4657