شاعری

راہ میں گھر کے اشارے بھی نہیں نکلیں گے

راہ میں گھر کے اشارے بھی نہیں نکلیں گے چاند ڈوبا تو ستارے بھی نہیں نکلیں گے ڈوبنے کے لیے ساحل پہ کھڑا ہوں میں بھی بندشیں توڑ کے دھارے بھی نہیں نکلیں گے ٹھہر اے سیل رواں ورنہ یہ بستی ہی نہیں تیرے غرقاب کنارے بھی نہیں نکلیں گے میری بستی بڑی مفلس ہے مگر اے حاتم لوگ یوں ہاتھ پسارے ...

مزید پڑھیے

اکیلے رہنے کی خود ہی سزا قبول کی ہے

اکیلے رہنے کی خود ہی سزا قبول کی ہے یہ ہم نے عشق کیا ہے یا کوئی بھول کی ہے خیال آیا ہے اب راستہ بدل لیں گے ابھی تلک تو بہت زندگی فضول کی ہے خدا کرے کہ یہ پودا زمیں کا ہو جائے کہ آرزو مرے آنگن کو ایک پھول کی ہے نہ جانے کون سا لمحہ مرے قرار کا ہے نہ جانے کون سی ساعت ترے حصول کی ہے نہ ...

مزید پڑھیے

عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی میں بہہ رہا ہے

عجیب منظر ہے بارشوں کا مکان پانی میں بہہ رہا ہے فلک زمیں کی حدود میں ہے نشان پانی میں بہہ رہا ہے تمام فصلیں اجڑ چکی ہیں نہ ہل بچا ہے نہ بیل باقی کسان گروی رکھا ہوا ہے لگان پانی میں بہہ رہا ہے عذاب اترا تو پاؤں سب کے زمیں کی سطحوں سے آ لگے ہیں ہوا کے گھر میں نہیں ہے کوئی مچان پانی ...

مزید پڑھیے

میں جانتا ہوں خوشامد پسند کتنا ہے

میں جانتا ہوں خوشامد پسند کتنا ہے یہ آسمان زمیں سے بلند کتنا ہے تمام رسم اٹھا لی گئی محبت میں دلوں کے بیچ مگر قید و بند کتنا ہے جو دیکھتا ہے وہی بولتا ہے لوگوں سے یہ آئنہ بھی حقیقت پسند کتنا ہے تمام رات مرے ساتھ جاگتا ہے کوئی وہ اجنبی ہے مگر درد مند کتنا ہے میں اس کے بارے میں ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے ملیں ہم کہ بات رہ جائے

کچھ اس طرح سے ملیں ہم کہ بات رہ جائے بچھڑ بھی جائیں تو ہاتھوں میں ہات رہ جائے اب اس کے بعد کا موسم ہے سردیوں والا ترے بدن کا کوئی لمس ساتھ رہ جائے میں سو رہا ہوں ترے خواب دیکھنے کے لیے یہ آرزو ہے کہ آنکھوں میں رات رہ جائے میں ڈوب جاؤں سمندر کی تیز لہروں میں کنارے رکھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

سنگ تھے پگھلے تو پانی ہو گئے

سنگ تھے پگھلے تو پانی ہو گئے ہم وہ چہرے جو کہانی ہو گئے کھیل ہے اب ہر طرف تصویر کا لفظ سارے بے معانی ہو گئے بات کرنی تھی ہمیں جس سے بہت ہم اسی کی بے زبانی ہو گئے چند قطرے رہ گئے تھے آنکھ میں وہ بھی دریا کی روانی ہو گئے سبز موسم آ گیا تھا روم میں آئنے بھی دھانی دھانی ہو گئے آسماں ...

مزید پڑھیے

چاند میں ڈھلنے ستاروں میں نکلنے کے لیے

چاند میں ڈھلنے ستاروں میں نکلنے کے لیے میں تو سورج ہوں بجھوں گا بھی تو جلنے کے لیے منزلو تم ہی کچھ آگے کی طرف بڑھ جاؤ راستہ کم ہے مرے پاؤں کو چلنے کے لیے زندگی اپنے سواروں کو گراتی جب ہے ایک موقع بھی نہیں دیتی سنبھلنے کے لیے میں وہ موسم جو ابھی ٹھیک سے چھایا بھی نہیں سازشیں ...

مزید پڑھیے

شاعری روح میں تحلیل نہیں ہو پاتی

شاعری روح میں تحلیل نہیں ہو پاتی ہم سے جذبات کی تشکیل نہیں ہو پاتی ہم ملازم ہیں مگر تھوڑی انا رکھتے ہیں ہم سے ہر حکم کی تعمیل نہیں ہو پاتی آسماں چھین لیا کرتا ہے سارا پانی آنکھ بھرتی ہے مگر جھیل نہیں ہو پاتی شام تک ٹوٹ کے ہر روز بکھر جاتا ہوں یاس امید میں تبدیل نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

دھواں دھواں ہے فضا روشنی بہت کم ہے

دھواں دھواں ہے فضا روشنی بہت کم ہے سبھی سے پیار کرو زندگی بہت کم ہے مقام جس کا فرشتوں سے بھی زیادہ تھا ہماری ذات میں وہ آدمی بہت کم ہے ہمارے گاؤں میں پتھر بھی رویا کرتے تھے یہاں تو پھول میں بھی تازگی بہت کم ہے جہاں ہے پیاس وہاں سب گلاس خالی ہیں جہاں ندی ہے وہاں تشنگی بہت کم ...

مزید پڑھیے

طویل ہجر ہے اک مختصر وصال کے بعد

طویل ہجر ہے اک مختصر وصال کے بعد میں اور ہو گیا تنہا ترے خیال کے بعد تپش اک اور ہے دن کی حرارتوں کے سوا سفر اک اور ہے سورج ترے زوال کے بعد کسی سے رکھتے کہاں دشمنی کا رشتہ ہم لہو کو سرد بھی ہونا تھا اک ابال کے بعد جو توڑنا ہے تو دل اس ادا سے توڑ مرا کوئی ملال نہ ہو مجھ کو اس ملال کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 702 سے 4657