راہ میں گھر کے اشارے بھی نہیں نکلیں گے
راہ میں گھر کے اشارے بھی نہیں نکلیں گے چاند ڈوبا تو ستارے بھی نہیں نکلیں گے ڈوبنے کے لیے ساحل پہ کھڑا ہوں میں بھی بندشیں توڑ کے دھارے بھی نہیں نکلیں گے ٹھہر اے سیل رواں ورنہ یہ بستی ہی نہیں تیرے غرقاب کنارے بھی نہیں نکلیں گے میری بستی بڑی مفلس ہے مگر اے حاتم لوگ یوں ہاتھ پسارے ...