شاعری

روشنی لے کے تیرگی ڈھونڈی

روشنی لے کے تیرگی ڈھونڈی تجھ کو پا کر تری کمی ڈھونڈی ان حسینوں سے پھیر کر آنکھیں تو نے کیوں مجھ سی سر پھری ڈھونڈی خواب جنت کے دیکھنے والے تو نے کیوں لڑکی دوزخی ڈھونڈی جس کو مذہب سے کچھ نہیں لینا بیوی اس نے بھی مذہبی ڈھونڈی میر صاحب نے عشق فرمایا اور نیوٹن نے گریوٹی ...

مزید پڑھیے

جلتا تھا رات ہی سے دل یاسمن تمام

جلتا تھا رات ہی سے دل یاسمن تمام رخصت تھی صبح تک یہ بہار چمن تمام جذبہ یہ رشک کا ہے اے عشاق کش مجھے بازار سے خرید لئے ہیں کفن تمام دل جل رہا ہے وحشت یاد غزال سے روشن ہیں اس چراغ سے دشت و دمن تمام مدت سے ہیں پڑے ہوئے چوکھٹ پہ یار کی پامال ہو چکے ہیں مرے روح و تن تمام کمزور ہے بہت ...

مزید پڑھیے

مری تم سے شناسائی بہت ہے

مری تم سے شناسائی بہت ہے مگر احساس تنہائی بہت ہے بکھر جاؤں تو خود ہی ہے سمٹنا کہ یہ دنیا تماشائی بہت ہے مجھے غرقاب ہو جانے کا ہے ڈر سراب دشت دریائی بہت ہے چلو اب سچ بھی کہہ کر دیکھتے ہیں یہاں شور پذیرائی بہت ہے نہیں وسعت ترے دریائے دل میں مگر آنکھوں میں گہرائی بہت ہے یہاں سے ...

مزید پڑھیے

گلوں پہ شبنم نہیں لہو ہے

گلوں پہ شبنم نہیں لہو ہے یہ کیسی سوغات رنگ و بو ہے بہار خنجر بہ دست آئی ہر اک منظر لہو لہو ہے کوئی تمنا نہیں ہے مجھ کو سکون دل کی ہی آرزو ہے میں اک مدت سے لاپتہ ہوں مجھے خود اپنی ہی جستجو ہے یہ بے دلی کی نماز تیری گمان ہوتا ہے بے وضو ہے اس کو اکثر میں سوچتا ہوں مری غزل کی جو آبرو ...

مزید پڑھیے

کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے

کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے تو دولت مند کا سامان ہوتا ہے درون دل اگر ایمان ہوتا ہے تو پھر جینا بڑا آسان ہوتا ہے ہتھیلی پر جو سر رکھے لڑائی میں اسی کی جیت کا امکان ہوتا ہے بدن کا بوجھ ہم ڈھوتے ہی رہتے ہیں مریں تو غیر کا احسان ہوتا ہے پتے کی بات کہہ سکتا ہے وہ پاگل کوئی ہشیار بھی ...

مزید پڑھیے

غم وفا کو پس پشت ڈالنا ہوگا

غم وفا کو پس پشت ڈالنا ہوگا کھٹک رہا ہے جو کانٹا نکالنا ہوگا فقیر عشق ہوں کچھ دے کے ٹالنا ہوگا بس اک نگاہ کا سکہ اچھالنا ہوگا سوال دوستو عظمت کا ہے سروں کا نہیں ہمیں وقار کا پرچم سنبھالنا ہوگا غضب کی پیاس لگی سامنا سراب کا ہے سو ریگ صحرا سے پانی نکالنا ہوگا اسے بتاؤ کہ فاقہ ہے ...

مزید پڑھیے

مرے ذہن و دل پر جو چھایا ہوا ہے

مرے ذہن و دل پر جو چھایا ہوا ہے مجھے اس نے یکسر بھلایا ہوا ہے ہر اک نقش دنیا مٹایا ہوا ہے اسے میں نے دل میں بسایا ہوا ہے بہت دور محسوس ہوتا ہے مجھ کو گلے جس کو میں نے لگایا ہوا ہے مجھے خوف ہے سلوٹیں پڑ نہ جائیں بدن اس نے اپنا بچھایا ہوا ہے تمہیں ڈھونڈنے سے نہیں ملنے والا نشان ...

مزید پڑھیے

عشق میں ایسی پائیداری ہے

عشق میں ایسی پائیداری ہے تیری لغزش بھی ہم کو پیاری ہے اس کا منہ موڑنا قیامت تھا دل تڑپتا ہے زخم کاری ہے تیرا کردار تو ہے معمولی اور دستار کتنی بھاری ہے آج دن بھر اداس اداس رہا تم نے کیسے نظر اتاری ہے زندگی کھیل ہے ڈرامے کا ہر کھلاڑی پہ ذمہ داری ہے کوئی اپنا نہیں لگا مجھ ...

مزید پڑھیے

دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا

دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا گر اس سے محبت ہے تو اظہار کرو نا ممکن ہے تمہارے لئے ہو جاؤں میں آساں تم خود کو مرے واسطے دشوار کرو نا گر یاد کرو گے تو چلا آؤں گا اک دن تم دل کی گزر گاہ کو ہموار کرو نا باہر کے محاذوں کی تمہیں فتح مبارک اب نفس کے شیطاں کو گرفتار کرو نا کہنا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

چار سو انتشار ہے کیا ہے

چار سو انتشار ہے کیا ہے یہ خزاں ہے بہار ہے کیا ہے سب کو مشکوک تم سمجھتے ہو خود پہ بھی اعتبار ہے کیا ہے سوا نیزے پہ چاہیے سورج جسم میں برف زار ہے کیا ہے مجھ کو منزل نظر نہیں آتی دور تک رہ گزار ہے کیا ہے کوئی آہٹ تلک نہیں ہوتی میرے اندر مزار ہے کیا ہے ایک پل بھی نہیں مرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4360 سے 4657