شاعری

یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا

یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا میں سجدہ ریز نوائے اذاں سے پہلے تھا ہیں کائنات کی سب وسعتیں اسی کی گواہ جو ہر زمین سے ہر آسماں سے پہلے تھا ستم ہے اس سے کہوں جسم و جاں پہ کیا گزری کہ جس کو علم مرے جسم و جاں سے پہلے تھا اسی نے دی ہے وہی ایک دن بجھائے گا پیاس جو سوز سینہ و اشک ...

مزید پڑھیے

سناٹا طوفاں سے سوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

سناٹا طوفاں سے سوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے یہ کچھ اور بڑا دھوکا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ضبط جنوں سے اندازوں پر در تو بند نہیں ہوتے تو مجھ سے بڑھ کر رسوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے رہنے دے یہ حرف تسلی میری ہمت پست نہ کر ناکامی ہی میں رستا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ڈھونڈنے والا ڈھونڈ رہا ...

مزید پڑھیے

یہ تن گھرا ہوا چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے

یہ تن گھرا ہوا چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے پر اپنا من کہ جو ہر دم سفر میں رہتا ہے دھنک کی طرح نکھرتا ہے شب کو خوابوں میں وہی جو دن کو مری چشم تر میں رہتا ہے وصال اس کو لکھوں میں کہ ہجر کا آغاز جو ایک لمحہ مسلسل نظر میں رہتا ہے چلو وہ ہم نہیں کوئی تو ہے ضرور کہ جو سکوں سے سایۂ دیوار و ...

مزید پڑھیے

آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے

آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے اس کا یہ حسن بھی کچھ میری خطا ہو جیسے وہی مایوسی کا عالم وہی نومیدی کا رنگ زندگی بھی کسی مفلس کی دعا ہو جیسے کبھی خاموشی بھی یوں بولتی ہے پیار کے بول کوئی خاموشی میں بھی نغمہ سرا ہو جیسے حرف دشنام سے یوں اس نے نوازا ہم کو یہ ملامت ہی محبت کا ...

مزید پڑھیے

کیا ہے میں نے تعاقب وہ صبح و شام اپنا

کیا ہے میں نے تعاقب وہ صبح و شام اپنا میں دشت دشت پکارا کیا ہوں نام اپنا میں تجھ کو بھول نہ پاؤں یہی سزا ہے مری میں اپنے آپ سے لیتا ہوں انتقام اپنا یہ نسبتیں کبھی ذاتی کبھی صفاتی ہیں ہر ایک شکل میں لازم ہے احترام اپنا اسی تلاش میں پہونچا ہوں عشق تک تیرے کہ اس حوالے سے پا جاؤں ...

مزید پڑھیے

یہ صنم روایت و نقل کے ہبل و منات سے کم نہیں

یہ صنم روایت و نقل کے ہبل و منات سے کم نہیں تیرا فکر واعظ حق نوا کسی سومنات سے کم نہیں کہیں برق چمکے میں جل اٹھوں کوئی تارا ٹوٹے میں رو پڑوں یہ دل ستم زدہ ہم نشیں دل کائنات سے کم نہیں کہیں رنگ و نور جمال ہے کہیں بیم و فکر مآل ہے کہیں شام غیرت صبح ہے کہیں دن بھی رات سے کم نہیں جسے ...

مزید پڑھیے

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا دل کا خوں آنکھوں میں کھنچ آیا چلو اچھا ہوا میری آنکھوں کو مرا احوال کہنا آ گیا سہل ہو جائے گی مشکل ضبط سوز و ساز کی خون دل کو آنکھ سے جس روز بہنا آ گیا میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا نہ تھا اب سخن کی آڑ میں ...

مزید پڑھیے

محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے

محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے جوانی اور اتنی دکھ بھری کیسی قیامت ہے وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے لب دریا مجھے لہروں سے یوں ہی چہل کرنے دو کہ اب دل کو اسی اک شغل بے معنی میں راحت ہے ترا افسانہ اے افسانہ خواں رنگیں سہی ...

مزید پڑھیے

قسم ان آنکھوں کی جن سے لہو ٹپکتا ہے

قسم ان آنکھوں کی جن سے لہو ٹپکتا ہے مرے جگر میں اک آتش کدہ دہکتا ہے گزشتہ کاہش و اندوہ کے خیال ٹھہر مرے دماغ میں شعلہ سا اک بھڑکتا ہے کسی کے عیش تمنا کی داستاں نہ کہو کلیجہ میری تمناؤں کا دھڑکتا ہے علاج اخترؔ ناکام کیوں نہیں ممکن اگر وہ جی نہیں سکتا تو مر تو سکتا ہے

مزید پڑھیے

سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتا

سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتا تڑپتا ہوں مگر اوروں کو تڑپانا نہیں آتا یہ جمنا کی حسیں امواج کیوں ارگن بجاتی ہیں مجھے گانا نہیں آتا مجھے گانا نہیں آتا یہ میری زیست خود اک مستقل طوفان ہے اخترؔ مجھے ان غم کے طوفانوں سے گھبرانا نہیں آتا

مزید پڑھیے
صفحہ 4309 سے 4657