یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا
یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا میں سجدہ ریز نوائے اذاں سے پہلے تھا ہیں کائنات کی سب وسعتیں اسی کی گواہ جو ہر زمین سے ہر آسماں سے پہلے تھا ستم ہے اس سے کہوں جسم و جاں پہ کیا گزری کہ جس کو علم مرے جسم و جاں سے پہلے تھا اسی نے دی ہے وہی ایک دن بجھائے گا پیاس جو سوز سینہ و اشک ...