شاعری

جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں

جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں میں جب شناسا نہ مل سکا کوئی اپنی جانب پلٹ گیا ہوں میں میرا سایہ بھی بڑھ گیا مجھ سے اس سلیقہ سے گھٹ گیا ہوں میں مل گئے جو بھی مطمئن لمحے ان سے فوراً لپٹ گیا ہوں میں روشنی جب بڑھی مری جانب دو قدم پیچھے ہٹ گیا ہوں میں آرزو ٹیس ...

مزید پڑھیے

سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ

سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ عمر بھر خود کو امتحان میں رکھ مانگ بھرتے ہیں جو صلیبوں کی ان فرشتوں کو آسمان میں رکھ جانے کس موڑ سے گزرنا ہو اجنبی راستے گمان میں رکھ زندگی کے بہت قریب نہ جا فاصلہ کچھ تو اپنے دھیان میں رکھ بے حسوں پر بھی جو گراں گزریں ایسے جملوں کو داستان میں ...

مزید پڑھیے

زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے

زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے پتھروں میں تری تقدیر کے دانے نکلے درد ٹیس اور جلن سے ہیں ابھی ناواقف زخم جو بچے ہتھیلی پہ اگانے نکلے میں تو ہر شے کا خریدار ہوں لیکن وہ آج اتنی جرأت کہ مرے دام لگانے نکلے نئی تحقیق نے قطروں سے نکالے دریا ہم نے دیکھا ہے کہ ذروں سے زمانے نکلے تلخ ...

مزید پڑھیے

پڑ گئی جیسے عقل پر مٹی

پڑ گئی جیسے عقل پر مٹی خاک منزل ہے رہ گزر مٹی موڑ سکتے ہیں گیلی ہونے تک ٹوٹ جاتی ہے سوکھ کر مٹی بے ضمیری جفا کشی نفرت نام بدلے ہوئے ہے ہر مٹی پھر بھی ظالم کی پیاس باقی ہے ہو چکی ہے لہو میں تر مٹی آؤ تازہ مصالحت کر لیں پچھلی باتوں پہ ڈال کر مٹی جتنے فرمان تھے بزرگوں کے ہو گئے آج ...

مزید پڑھیے

کوئی سنتا ہی نہیں کس کو سنانے لگ جائیں

کوئی سنتا ہی نہیں کس کو سنانے لگ جائیں درد اگر اٹھے تو کیا شور مچانے لگ جائیں بھید ایسا کہ گرہ جس کی طلب کرتی ہے عمر رمز ایسا کہ سمجھنے میں زمانے لگ جائیں آ گیا وہ تو دل و جان بچھے ہیں ہر سو اور نہیں آئے تو کیا خاک اڑانے لگ جائیں تیری آنکھوں کی قسم ہم کو یہ ممکن ہی نہیں تو نہ ہو ...

مزید پڑھیے

حبس دروں پہ جسم گراں بار سنگ تھا

حبس دروں پہ جسم گراں بار سنگ تھا وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا کچھ دور تک سحاب رفاقت رہا رفیق پھر اہتمام بارش تیر و تفنگ تھا سہمی ہوئی فضائے غزالاں کے رو بہ رو جنگل تھا قہقہے تھے خدا تھا میں دنگ تھا اب شہر جستجو میں ترے بعد کچھ نہیں آبادئ بدن میں جو دل تھا ملنگ تھا جی یہ کرے ...

مزید پڑھیے

کچھ فاصلہ نہیں ہے عدو اور شکست میں

کچھ فاصلہ نہیں ہے عدو اور شکست میں لیکن کوئی سراغ نہیں ہے گرفت میں کچھ دخل اختیار کو ہو بود و ہست میں سر کر لوں یہ جہان الم ایک جست میں اب وادئ بدن میں کوئی بولتا نہیں سنتا ہوں آپ اپنی صدا بازگشت میں رخ ہے مرے سفر کا الگ تیری سمت اور اک سوئے مرغ زار چلے ایک دشت میں کس شاہ کا گزر ...

مزید پڑھیے

گہری سونی راہ اور تنہا سا میں

گہری سونی راہ اور تنہا سا میں رات اپنی چاپ سے ڈرتا سا میں تو کہ میرا آئنہ ہوتا ہوا اور تیرے عکس میں ڈھلتا سا میں کب ترے کوچے سے کر جانا ہے کوچ اس تصور سے ہی گھبراتا سا میں میری راہوں کے لیے منزل تو ہی تیرے قدموں کے لیے رستا سا میں آسماں میں رنگ بکھراتا سا تو اور سراپا دید بن ...

مزید پڑھیے

کھلی اور بند آنکھوں سے اسے تکتا رہا میں بھی

کھلی اور بند آنکھوں سے اسے تکتا رہا میں بھی تری دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرتا رہا میں بھی مری آواز پچھلی رات تجھ تک کیسے آ پاتی کسی گہرے کنویں میں رات بھر سوتا رہا میں بھی بہ ظاہر دیکھتی آنکھیں بہ ظاہر جاگتی روحیں بہ ظاہر ان سبھوں کے ساتھ ہی جیتا رہا میں بھی میں ہوں اس کارساز بے ...

مزید پڑھیے

تو ساتھ ہے مگر کہیں تیرا پتا نہیں

تو ساتھ ہے مگر کہیں تیرا پتا نہیں شاخوں پہ دور تک کوئی پتا ہرا نہیں خاموشیاں بھری ہیں فضاؤں میں ان دنوں ہم نے بھی موسموں سے ادھر کچھ کہا نہیں تو نے زباں نہ کھولی سخن میں نے چن لیے تو نے وہ پڑھ لیا جسے میں نے لکھا نہیں یہ کون سی جگہ ہے یہ بستی ہے کون سی کوئی بھی اس جہان میں تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4255 سے 4657