شاعری

بچ بچا کر جسم سے بھاگا کوئی

بچ بچا کر جسم سے بھاگا کوئی گرتی دیواروں کی زد میں تھا کوئی اس قدر دست رسائی سے گریز ہم نہ ساحل ہیں نہ تم دریا کوئی لوٹ آتے دشت تنہائی سے ہم شہر میں آواز تو دیتا کوئی سارے دن سگریٹ کے مرغولوں میں بند رات بھر خوابوں کا قیدی تھا کوئی میرے دریا تو شناور کو نہ بھول دیکھ تو تہہ میں ...

مزید پڑھیے

پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا

پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا قید انا سے ہو کے وہ آزاد آوے گا اس بت سے جی لگا نہ لگا کیا مجھے ولے پھر کیا کرے گا جب وہ تجھے یاد آوے گا میں تو کروں ہوں عمر بھر اک دشت کا سفر کیا ہوگا جب وہ قریۂ آباد آوے گا آوے گا اک سے ایک سخنور یہاں مگر کوئی بھی میرؔ جیسا نہ استاد آوے گا میں اس کو ...

مزید پڑھیے

زندگی کی کتاب دیکھتا ہوں

زندگی کی کتاب دیکھتا ہوں کیا ہوا انتساب دیکھتا ہوں تم بھی ہوتے ہو میرے پاس مگر میں تمہارے ہی خواب دیکھتا ہوں ایک چہرہ ہے میری آنکھوں میں کیا گناہ و ثواب دیکھتا ہوں اس کی تعبیر ہے مرا ہونا موت کو محو خواب دیکھتا ہوں چشم و لب گنگ ہیں علی یاسرؔ سامنے اس کا باب دیکھتا ہوں

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا ہے ...

مزید پڑھیے

عہد صد مصلحت‌‌ اندیش نبھانا پڑے گا

عہد صد مصلحت‌‌ اندیش نبھانا پڑے گا مسکرانے کے لئے غم کو بھلانا پڑے گا جانتے ہیں کہ اجڑ جائیں گے ہم اندر سے مانتے ہیں کہ تمہیں شہر سے جانا پڑے گا آمد فصل بہاراں پہ کوئی جشن تو ہو دوستو دل پہ کوئی زخم کھلانا پڑے گا چشم بد دور یہی اک مرا سرمایہ ہے تیری یادوں کو زمانے سے چھپانا ...

مزید پڑھیے

زخم دل کا خوں چکاں ایسا نہ تھا

زخم دل کا خوں چکاں ایسا نہ تھا اب سے پہلے جاں ستاں ایسا نہ تھا لرزہ بر اندام ہے قصر یقیں آدمی صید گماں ایسا نہ تھا پھلجھڑی سی چھوٹتی تھی رات دن شہر جاں تیرہ نشاں ایسا نہ تھا پھول جو تھے آرزو کے جل گئے شعلہ شعلہ گلستاں ایسا نہ تھا زیست کی رہ میں بلائیں تھیں مگر میرے سر پر آسماں ...

مزید پڑھیے

زندگی سے مری اس طرح ملاقات ہوئی

زندگی سے مری اس طرح ملاقات ہوئی لب ہلے آنکھ ملی اور نہ کوئی بات ہوئی درد کی دھوپ نہیں یاد کا سایہ بھی نہیں اب تو قسمت میری بے رنگئ حالات ہوئی صرف کل ہی نہیں اس دور میں بھی دیدہ وری نذر اوہام ہوئی صید روایات ہوئی کل تو محور تھے مری ذات کے یہ کون و مکاں کائنات آج جو سمٹی تو مری ذات ...

مزید پڑھیے

وہ مصاف زیست میں ہر موڑ پر تنہا رہا

وہ مصاف زیست میں ہر موڑ پر تنہا رہا پھر بھی ہونٹوں پر نہ اس کے کوئی بھی شکوہ رہا جو سدا تشنہ لبوں کے واسطے دریا رہا عمر بھر وہ خود بہ نام دوستاں پیاسا رہا عقل حیراں ہے جنوں بھی دم بخود ہے سوچ کر وہ ہجوم کشتگاں میں کس طرح زندہ رہا پھولنے پھلنے کا موقع تو کہاں ان کو ملا نیم جاں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو اوروں سے کوئی شکوا نہیں

مجھ کو اوروں سے کوئی شکوا نہیں میں نے بھی تو خود کو پہچانا نہیں سر پہ آ پہنچا ہے سورج کرب کا ساتھ اپنے سایہ بھی اپنا نہیں شوق منزل ہی ہے میرا خضر راہ نقش پا ہر موڑ پر ملتا نہیں ہو گیا خون‌ حیات اب یوں سفید جیسے میرا اس سے کچھ رشتہ نہیں ہے خیال خام وہ میں نے جسے پیرہن الفاظ کا ...

مزید پڑھیے

کیوں ملامت کا ہدف گردش پیمانہ بنے

کیوں ملامت کا ہدف گردش پیمانہ بنے لغزش پا سے مری کعبہ و بت خانہ بنے عقل کے بس کی نہیں بخیہ‌ گری پھولوں کی درد جس کو ہو گلستاں کا وہ دیوانہ بنے لب حکمت سے شب و روز اجالے ٹپکے تیرہ ذہنی کا مگر یہ بھی مداوا نہ بنے بے سبب شوق نہیں مائل افسانہ گری ہر حقیقت کی یہ خواہش ہے کہ افسانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4212 سے 4657