پوشیدہ کسی ذات میں پہلے بھی کہیں تھا
پوشیدہ کسی ذات میں پہلے بھی کہیں تھا میں ارض و سماوات میں پہلے بھی کہیں تھا اک لمحۂ غفلت نے مجھے زیر کیا ہے دشمن تو مری گھات میں پہلے بھی کہیں تھا بے وجہ نہ بدلے تھے مصور نے ارادے میں اس کے خیالات میں پہلے بھی کہیں تھا اس کے یہ خد و خال زمانوں میں بنے ہیں یہ شہر مضافات میں پہلے ...