شاعری

پوشیدہ کسی ذات میں پہلے بھی کہیں تھا

پوشیدہ کسی ذات میں پہلے بھی کہیں تھا میں ارض و سماوات میں پہلے بھی کہیں تھا اک لمحۂ غفلت نے مجھے زیر کیا ہے دشمن تو مری گھات میں پہلے بھی کہیں تھا بے وجہ نہ بدلے تھے مصور نے ارادے میں اس کے خیالات میں پہلے بھی کہیں تھا اس کے یہ خد و خال زمانوں میں بنے ہیں یہ شہر مضافات میں پہلے ...

مزید پڑھیے

میں حبیب ہوں کسی اور کا مری جان جاں کوئی اور ہے

میں حبیب ہوں کسی اور کا مری جان جاں کوئی اور ہے سر داستاں کوئی اور ہے پس داستاں کوئی اور ہے یہ عذاب دربدری میاں ہے ازل سے میرا رفیق جاں میں مکین ہوں کہیں اور کا مرا خاک داں کوئی اور ہے یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے کسے کتنی قوت پر ملی ترا آسماں کوئی اور ہے مرا آسماں کوئی اور ہے یہ جو ...

مزید پڑھیے

نگہبان چمن اب دھوپ اور پانی سے کیا ہوگا

نگہبان چمن اب دھوپ اور پانی سے کیا ہوگا مقدر میں ہے تاراجی نگہبانی سے کیا ہوگا مسافت ہجر کی یہ سوچ کر طے کر رہے ہیں ہم اگر مشکل نہیں ہوگی تو آسانی سے کیا ہوگا دل ناداں نے سارے معرکے سر کر لیے آخر یہ نادانی تھی ہم سمجھے تھے نادانی سے کیا ہوگا نہ کچھ ہو کر بھی اپنی ذات میں اک ...

مزید پڑھیے

غم کی دیوار کو میں زیر و زبر کر نہ سکا

غم کی دیوار کو میں زیر و زبر کر نہ سکا اک یہی معرکہ ایسا تھا جو سر کر نہ سکا دل وہ آزاد پرندہ ہے کہ جس کو میں نے قید کرنا تو بہت چاہا مگر کر نہ سکا دور اتنی بھی نہ تھی منزل مقصود مگر یوں پڑے پاؤں میں چھالے کہ سفر کر نہ سکا زندگی میری کٹی ایک سزا کے مانند چین سے دنیا میں پل بھر بھی ...

مزید پڑھیے

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے

عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے کسی کا بھی نہ چراغوں کی سمت دھیان گیا شب نشاط وہ کب کب بجھے تھے کب روئے ہزار گریہ کے پہلو نکلنے والے ہیں اسے کہو کہ وہ یوں ہی نہ بے سبب روئے ہمارے زاد سفر میں بھی درد رکھا گیا سو ہم بھی ٹوٹ کے روئے سفر میں جب ...

مزید پڑھیے

یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے

یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے مرے ماہ تم تو حجاب ہی میں رہے مگر ہمیں تاب تھی تب و تاب میں تجھے دیکھتے کبھی کوئی بابت حسن ہم سے جو پوچھتا تو ہم اہل عشق جواب میں تجھے دیکھتے کسی اور دھج سے بناتے تیرا مجسمہ کبھی ہم جو عین شباب میں تجھے ...

مزید پڑھیے

یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم

یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم کوئی عروج میں گم ہے کوئی زوال میں گم نصاب عشق میں ہجر و وصال ایک سے ہیں ہے میرے ہجر کا رشتہ ترے وصال میں گم یہ اک نظارہ الگ ہے سبھی نظاروں سے مری نظر کا تسلسل ترے جمال میں گم یہ نازکی مرے شعروں کی بے سبب تو نہیں کہ میری فکر سخن ہے اسی غزال ...

مزید پڑھیے

کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے

کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے اجالے کا سفر دیکھا تو جائے چراغ چشم تر دیکھا تو جائے محبت کا اثر دیکھا تو جائے جو بال و پر پہ نازاں ہو رہے ہیں انہیں بے بال و پر دیکھا تو جائے یہ نقشہ مسترد تو ہو چکا ہے مگر بار دگر دیکھا تو جائے غموں کی دھوپ میں لب پر تبسم یہ جینے کا ہنر دیکھا تو ...

مزید پڑھیے

اپنے دکھوں کا ہم نے تماشہ نہیں کیا

اپنے دکھوں کا ہم نے تماشہ نہیں کیا فاقے کیے مگر کبھی شکوہ نہیں کیا بے گھر ہوئے تباہ ہوئے در بدر ہوئے لیکن تمہارے نام کو رسوا نہیں کیا گو ہم چراغ وقت کو روشن نہ کر سکے پر اپنی ذات سے تو اندھیرا نہیں کیا اس پر بھی ہم لٹاتے رہے دولت یقیں اک پل بھی جس نے ہم پہ بھروسہ نہیں کیا اس شخص ...

مزید پڑھیے

گھر میں بیٹھوں تو شناسائی برا مانتی ہے

گھر میں بیٹھوں تو شناسائی برا مانتی ہے باہر آ جاؤں تو تنہائی برا مانتی ہے میری نادانی دکھاتی ہے کرشمے جب بھی صاحب وقت کی دانائی برا مانتی ہے ماہ و انجم کی سواری پہ نکلتا ہوں جب دشت افلاک کی پہنائی برا مانتی ہے بحر کی تہہ میں اترتا ہوں خزانوں کے لئے یہ الگ بات کہ گہرائی برا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 413 سے 4657