شاعری

صبح کیسی ہے وہاں شام کی رنگت کیا ہے

صبح کیسی ہے وہاں شام کی رنگت کیا ہے اب ترے شہر میں حالات کی صورت کیا ہے ایک آزار دھڑکتا ہے یہاں سینے میں اب تجھے کیسے بتائیں کہ محبت کیا ہے حکم دیتا ہے تو آواز لرز جاتی ہے جانے اب کے مرے سالار کی نیت کیا ہے یہ جو میں پیڑ اگانے میں لگا رہتا ہوں میں سمجھتا ہوں مری پہلی ضرورت کیا ...

مزید پڑھیے

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ اپنے شہر کی مٹی بھی سامان میں رکھ سارے جسم کو لے کر گھوم زمانے میں بس اک دل کی دھڑکن پاکستان میں رکھ جانے کس رستے سے کرنیں آ جائیں دل دہلیز پہ آنکھیں روشندان میں رکھ جھیل میں اک مہتاب ضروری ہوتا ہے کوئی تمنا اس چشم حیران میں رکھ ہم سے شرط ...

مزید پڑھیے

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے

دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے یہاں تو پھر ہوا کی برہمی محسوس ہوتی ہے وہ اب بھی گفتگو کرتا ہے پہلے کی طرح لیکن ذرا سی برف لہجے میں جمی محسوس ہوتی ہے ترے وعدے کا سایہ ہو تو صحرا کے سفر میں بھی جھلستی لو ہوائے شبنمی محسوس ہوتی ہے تو کیا میں ضبط کے معیار پر پورا نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیں

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیں ہم اپنی ذات کے حجرے میں رات کاٹتے ہیں عجیب لوگ ہیں اس عہد بے مروت کے زبان کاٹ نہ پائیں تو بات کاٹتے ہیں یہ لمحہ اہل محبت پہ سخت بھاری ہے یہ لمحہ اہل محبت کے ساتھ کاٹتے ہیں تھکن سے پورا بدن چور چور ہوتا ہے پہاڑ کاٹتے ہیں ہم کہ رات کاٹتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا وہ ایک حرف جو مری زبان سے نکل گیا بہت زیادہ جھکنا پڑ رہا تھا اس کے سائے میں سو ایک دن میں اس کے سائبان سے نکل گیا ابھی تو تیرے اور ترے عدو کے درمیان ہوں اگر کبھی میں تھک کے درمیان سے نکل گیا مرے عدو کے خواب چکنا چور ہو کے رہ گئے میں جست بھر کے ...

مزید پڑھیے

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے اب تو زہر الفاظ میں رکھا جاتا ہے مشکل ہے اک بات ہمارے مسلک کی اپنے آپ کو راز میں رکھا جاتا ہے اک شعلہ رکھنا ہوتا ہے سینے میں اک شعلہ آواز میں رکھا جاتا ہے ہم لوگوں کو خواب دکھا کر منزل کا رستے کے آغاز میں رکھا جاتا ہے یہاں تو اڑتے اڑتے تھک کر گرنے ...

مزید پڑھیے

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے سوال یہ ہے کہ کتنے شجر اگائے گئے ملی ہے اور ہی تعبیر آ کے منزل پر وہ اور خواب تھے رستے میں جو دکھائے گئے مرے لہو سے مجھے منہدم کرایا گیا دیار غیر سے لشکر کہاں بلائے گئے دیے بنا کے جلائی تھیں انگلیاں ہم نے اندھیری شب کی عدالت میں ہم بھی لائے ...

مزید پڑھیے

در و دیوار سے ڈر لگ رہا تھا

در و دیوار سے ڈر لگ رہا تھا ترا گھر بھی مرا گھر لگ رہا تھا اسی نے سب سے پہلے ہار مانی وہی سب سے دلاور لگ رہا تھا جسے مہتاب کہتا تھا زمانہ ترے کوچے کا پتھر لگ رہا تھا جگہ اب چھوڑ دوں بیٹے کی خاطر وہ کل میرے برابر لگ رہا تھا خبر کیا تھی بگولوں کا ہے مسکن پرے سے تو سمندر لگ رہا ...

مزید پڑھیے

کچھ اب کے رسم جہاں کے خلاف کرنا ہے

کچھ اب کے رسم جہاں کے خلاف کرنا ہے شکست دے کے عدو کو معاف کرنا ہے ہوا کو ضد کہ اڑائے گی دھول ہر صورت ہمیں یہ دھن ہے کہ آئینہ صاف کرنا ہے وہ بولتا ہے تو سب لوگ ایسے سنتے ہیں کہ جیسے اس نے کوئی انکشاف کرنا ہے مجھے پتہ ہے کہ اپنے بیان سے اس نے کہاں کہاں پہ ابھی انحراف کرنا ہے چراغ ...

مزید پڑھیے

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑے

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑے ہر روز میرے سر پہ یہ تلوار گر پڑے اتنا بھی انحصار مرے سائے پر نہ کر کیا جانے کب یہ موم کی دیوار گر پڑے سانسیں بچھا کے سوؤں کہ دست نسیم سے شاید کسی کے جسم کی مہکار گر پڑے ٹھہرے تو سائبان ہوا نے اڑا دئے چلنے لگے تو راہ کے اشجار گر پڑے ہر زاویے پہ سوچ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3788 سے 4657