ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ کہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوں کہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانی ہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوں ہوا ہے ...