بھولے بسرے ہوئے غم یاد بہت کرتا ہے
بھولے بسرے ہوئے غم یاد بہت کرتا ہے میرے اندر کوئی فریاد بہت کرتا ہے روز آتا ہے جگاتا ہے ڈراتا ہے مجھے تنگ مجھ کو مرا ہم زاد بہت کرتا ہے مجھ سے کہتا ہے کہ کچھ اپنی خبر لے بابا دیکھ تو وقت کو برباد بہت کرتا ہے نکلی جاتی ہے مرے پاؤں کے نیچے سے زمیں آسماں بھی ستم ایجاد بہت کرتا ...