شاعری

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی پھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھی موسم دید میں اک سبز پری کا سایہ اب گلہ کیا کہ طبیعت تو ہری رہنا تھی میں کہ ہوں آدم اعظم کی روایت کا نقیب میری شوخی سبب در بہ دری رہنا تھی خواب عرفان حقیقت کے تمنائی تھے زندگی اور مری راہبری رہنا تھی آج بھی ...

مزید پڑھیے

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے

الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھے اور سانپ بیٹھا ہے سائبان کے پیچھے خوش گوار موسم پر کامیابیاں مبنی من چلا سمندر ہے بادبان کے پیچھے ہم سے رہ نوردوں کو دشت راس کیا آتا آخرش پلٹنا تھا خاک چھان کے پیچھے چیخ المدد شاید دست غیب آ جائے ناولوں کے لشکر ہیں داستان کے پیچھے تیر کھا ...

مزید پڑھیے

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے

شہر سخن عجیب ہو گیا ہے ناقد یہاں ادیب ہو گیا ہے جھوٹ ان دنوں اداس ہے کہ سچ بھی پروردۂ صلیب ہو گیا ہے گرمی سے پھر بدن پگھل رہے ہیں شاید کوئی قریب ہو گیا ہے آبادیوں میں ڈوب کر مرا دل جنگل سے بھی مہیب ہو گیا ہے کیا کیا گلے نہیں اسے وطن سے یاورؔ کہاں غریب ہو گیا ہے

مزید پڑھیے

لرزاں ترساں منظر چپ

لرزاں ترساں منظر چپ آرمیدہ گھر گھر چپ یہ کیسی ہے راہ بری راہی چپ تو رہبر چپ گوپی چندر ڈوب گیا سہما ہرا سمندر چپ دشمن ایماں پیش نظر اندر ہلچل باہر چپ نقالی پر نازاں تھا شاعر دیکھ کے بندر چپ رات میں کیا کیا عیش ہوئے تنہا میں تھا بستر چپ ہلکی پھلکی ایک غزل محفل برہم یاورؔ چپ

مزید پڑھیے

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئی

مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئی سحر تو ہو نہ سکی اور پھر سے شام ہوئی کھلا جو مجھ پہ ستم گاہ وقت کا منظر تو مجھ پہ عیش و طرب جیسی شے حرام ہوئی مرے وجود کا صحرا جہاں میں پھیل گیا مرے جنوں کی نحوست زمیں کے نام ہوئی ابھی گری مری دیوار جسم اور ابھی بساط دیدہ و دل سیر گاہ عام ہوئی تو ...

مزید پڑھیے

کتنی حسین لگتی ہے چہروں کی یہ کتاب

کتنی حسین لگتی ہے چہروں کی یہ کتاب سطروں کے بیچ دیکھیے پھیلا ہوا عذاب چیخوں کا کرب نغموں کے شعلے ورق ورق احساس بن رہا ہے جواں درد کی کتاب میزان دل میں تولیے پھولوں سے ہر امید لمحوں میں گھل رہا ہے تمناؤں کا شباب چہروں پہ آج کتنے نقابوں کا بوجھ ہے زخمی ہے آئینوں کے سمندر میں ہر ...

مزید پڑھیے

تنہائی کی قبر سے اٹھ کر میں سڑکوں پر کھو جاتا ہوں

تنہائی کی قبر سے اٹھ کر میں سڑکوں پر کھو جاتا ہوں چہروں کے گہرے ساگر میں مردہ آنکھیں پھینک آتا ہوں میں کوئی برگد تو نہیں ہوں صدیوں ٹھہروں اس دھرتی پر دھند میں لپٹے خوابوں کا قد لمحہ لمحہ ناپ رہا ہوں وہ تو جھوٹ کی چادر اوڑھے پھیلا ساگر پھاند چکا ہے میں ہی سچ کی مالا جپتے اس دھرتی ...

مزید پڑھیے

سمٹے رہے تو درد کی تنہائیاں ملیں

سمٹے رہے تو درد کی تنہائیاں ملیں جب کھل گئے تو دہر کی رسوائیاں ملیں خوابوں کے اشتہار تھے دیوار جسم پر دل کو ہر ایک موڑ پہ بے خوابیاں ملیں ہونٹوں کو چومتی تھیں منور خموشیاں برفاب سی گپھاؤں میں سرگوشیاں ملیں دشوار راستوں پہ تو کچھ اور بات تھی یوں دل کو موڑ موڑ پہ آسانیاں ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں کے صحیفوں پہ ہے آواز کا چہرہ

ہونٹوں کے صحیفوں پہ ہے آواز کا چہرہ سایہ سا نظر آتا ہے ہر ساز کا چہرہ آنکھوں کی گپھاؤں میں تڑپتی ہے خموشی خوابوں کی دھنک ہے مرے ہم راز کا چہرہ میں وقت کے کہرام میں کھو جاؤں تو کیا غم ڈھونڈے گا زمانہ مری آواز کا چہرہ سورج کے بدن سے نکل آئے ہیں ستارے انجام میں بیدار ہے آغاز کا ...

مزید پڑھیے

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے

ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیے سفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیے سڑک سڑک مہک رہے تھے گل بدن سجے ہوئے تھکے بدن اک اک گلے کا ہار لے کے چل دیے جبلتوں کا خون کھولنے لگا زمین پر تو عہد ارتقا خلا کے پار لے کے چل دیے پہاڑ جیسی عظمتوں کا داخلہ تھا شہر میں کہ لوگ آگہی کا اشتہار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 258 سے 4657