بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیا
بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیا وہ محبت جسے برباد بھی خود میں نے کیا نوچ کر پھینک دیے آپ ہی خواب آنکھوں سے اس دبی شاد کو ناشاد بھی خود میں نے کیا جال پھیلائے تھے جس کے لیے چاروں جانب اس گرفتار کو آزاد بھی خود میں نے کیا کام تیرا تھا مگر مارے مروت کے اسے تجھ سے پہلے بھی ...