شاعری

یہ جو تیری آنکھوں میں معنیٔ وفا سا ہے

یہ جو تیری آنکھوں میں معنیٔ وفا سا ہے کاسۂ تمنا کے حرف مدعا سا ہے میرے خون کی سرخی سرخیٔ وفا ٹھہری جس سے روئے قاتل بھی سرخ رو بنا سا ہے قتل گاہ ارماں ہے جس کی محفل عشرت وہ نگار فتنہ زا پیکر وفا سا ہے جب سے مجھ کو حاصل ہے تیرے قرب کی دولت نقش سنگ پائندہ مجھ پہ آئنہ سا ہے لفظ اور ...

مزید پڑھیے

محبت پہ شاید زوال آ رہا ہے

محبت پہ شاید زوال آ رہا ہے کہ اب زندگی کا سوال آ رہا ہے فضا مہکی مہکی ہے صحن چمن کی جو آج اک یہاں گل مثال آ رہا ہے کروں کس طرح ان سے ترک تعلق مجھے ان کے دل کا خیال آ رہا ہے یہ کس کے تصور میں اے جان ارماں تجھے بھی سر بزم حال آ رہا ہے گزر سا گیا سانحہ کیا چمن میں گلوں پر جو رنگ ملال آ ...

مزید پڑھیے

ترے فراق میں گھٹنوں چلی ہے تنہائی

ترے فراق میں گھٹنوں چلی ہے تنہائی خیال و خواب میں پھولی پھلی ہے تنہائی ترے خیال ترے ہجر کے وسیلے سے تصورات میں ہم سے ملی ہے تنہائی جمال یار میں کھویا ہوا ہے سناٹا خیال یار میں ڈوبی ہوئی ہے تنہائی کسی کے شوخ بدن کی ضرورتوں کی طرح تمام رات سلگتی رہی ہے تنہائی تمہاری زلف معنبر ...

مزید پڑھیے

سرہانے بے بسی روتی رہی ہے

سرہانے بے بسی روتی رہی ہے شب غم زندگی روتی رہی ہے شب غم سانحہ کیا ہو گیا تھا بہر سو چاندنی روتی رہی ہے یہ میری شومیٔ قسمت پہ یارو سحر تک شمع بھی روتی رہی ہے مری بے چارگی پر بزم انجم کبھی ہنستی کبھی روتی رہی ہے گلوں کی مسکراہٹ یاد کر کے گلستاں میں کلی روتی رہی ہے خلش ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے

اس سے میرا تو کوئی دور کا رشتہ بھی نہیں

اس سے میرا تو کوئی دور کا رشتہ بھی نہیں اور یہ بھی ہے کہ وہ شخص پرایا بھی نہیں وہ مرے غم سے ہو انجان کچھ ایسا بھی نہیں وہ مرا حال مگر پوچھنے آیا بھی نہیں غیر کو قرب میسر ہے مگر اے ہمدم میری خاطر تو ترا دور کا جلوہ بھی نہیں عمر بھر ساتھ نبھانے کا کروں کیا وعدہ زندگی اب تو مجھے خود ...

مزید پڑھیے

کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں

کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں تجھی کو یاد کیا دل نے سرد آہوں میں اسی امید پہ دنیا کو ہم نے چھوڑ دیا سکون دل کو ملے گا تری پناہوں میں بہت حسین تھا بچپن کا وہ زمانہ بھی کوئی حسین کلی تھی مری نگاہوں میں کیا تھا تو نے بھی مجھ سے نباہ کا وعدہ یہ چاند اور ستارے بھی ہیں گواہوں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا

مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا تجھ کو منظور اگر ہو تو بھلا ہی دینا اے غم ہجر وہ تہمت جو لگائے مجھ پر میری بے لوث محبت کی گواہی دینا یہ الگ بات کہ ہو جاؤں محبت میں تباہ تو نہ مجھ کو کبھی احساس تباہی دینا وہ جو مجبور کریں شرح‌ غم فرقت کو اشک آمیز نگاہوں سے سنا ہی دینا ان کے ...

مزید پڑھیے

تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھا

تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھا خطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھا پھر اس نے کس لیے رکھے ہوا پہ اپنے قدم وہ گرد گرد تھا سوکھے لبوں کی پیاس نہ تھا میں اپنے آپ لٹا آسماں کی خواہش سے زمیں کا چہرہ مری نیند سے اداس نہ تھا یہ کس نے آنکھ کو ننگا کیا ہے دریا میں مہکتی ریت پہ کوئی ...

مزید پڑھیے

عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ

عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ سایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ دشت و دریا سے گزر ہو یا خلاؤں کا سفر اب بھی آساں ہے مگر مشکل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ کس نظر سے دیکھتے ہیں مجھ کو سب معلوم ہے اپنی جانب سے مجھے غافل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ زندگی کے ایک اک پل کی خبر رکھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیا

تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیا مر گئی پیاس تو حصے میں سمندر آیا جتنے غواص تھے وہ تہہ سے نہ خالی لوٹے جو شناور تھے انہیں ہاتھ نہ گوہر آیا میری قسمت میں وہی شب وہی ظلمت کا گزر صبح آئی نہ مرا مہر منور آیا سر جھکایا تو مجھے روند گئی ہے دنیا سر اٹھایا تو ہر اک سمت سے پتھر آیا وہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 224 سے 4657