سیہ بستر پڑے ہیں صبح نظارہ اتر آئے
سیہ بستر پڑے ہیں صبح نظارہ اتر آئے کہ شب کو زینہ زینہ کوئی مہ پارہ اتر آئے سوار غم رواں ہیں کھول دو عشرت کدوں کے در خبر کیا کون اندھیرے کا تھکا ہارا اتر آئے عجب ڈر ہے مٹیلی وادیاں اوپر کو تکتی ہیں کسی طوفان کی صورت نہ طیارہ اتر آئے دمک اٹھے مری صبحوں میں وہ ہنستا ہوا چہرہ مری ...