پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہے
پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہے
پروں میں زور کہاں حوصلہ اڑان میں ہے
ابھی سے بھیگ رہا ہے ہدف پسینے میں
کہ تیر چھوٹا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے
گرے گی کون سی چھت پہ یہ کب کسے معلوم
کٹی پتنگ ہواؤں کے امتحان میں ہے
سکون قلب کو محلوں میں ڈھونڈنے والو
سکون قلب فقیروں کے خاندان میں ہے
خریدنا ہے جو تحفہ تمہیں محبت کا
ملے گا دل کے عوض درد کی دکان میں ہے
حیات و موت فقط نام گھر بدلنے کا
سمیٹ رکھا ہے سامان سائبان میں ہے