ارادے کیا ہوئے لمبے ہمارے

ارادے کیا ہوئے لمبے ہمارے
قدم پڑتے نہیں چھوٹے ہمارے


بڑھا ہے درمیاں یہ پیار جب جب
ہوئے ہیں کس قدر جھگڑے ہمارے


سمجھتا تھا بڑا معصوم اس کو
اڑے ہیں عشق میں طوطے ہمارے


لگی ہے شرط دیکھے گا پلٹ کر
ہوئے سب تعزیے ٹھنڈے ہمارے


یہیں تو دیکھنا ہے وقت مشکل
رہیں گے ساتھ میں کتنے ہمارے


شجر کی چاشنی اس میں گھلی ہے
ثمر کوئی نہیں پھیکے ہمارے


بلاتے ہیں تمہیں دن رات کتنا
قرینے سے سجے کمرے ہمارے


لے آئی اک جگہ پر ہم کو قدرت
ہوئے ہیں دور سب خدشے ہمارے


چلی ہے وقت نے یہ چال کیسی
پٹے اک بار میں مہرے ہمارے


یہی سچ تھا سفر سے واپسی کا
کبھی واپس نہیں لوٹے ہمارے