پردہ ور تھا غم پنہاں میرا

پردہ ور تھا غم پنہاں میرا
ہو گیا چاک گریباں میرا


دل سے نکلا پہ نہ نکلا دل سے
تیر تیرا ہے تو پیکاں میرا


اور کھانے کو دھرا ہی یاں کیا
میرا غم کھائے گا مہماں میرا


راہ نکلی تو ہے واں جانے کی
شوق ہے سلسلہ جنباں میرا


یہ جو اب ان کے ہے دروازے پر
تھا کسی عہد میں درباں میرا


نام یوسفؔ ہے مرا پر ناظمؔ
ہے مرا مصر ہی کنعاں میرا