پا کے اشارے جوش نمو کے
پا کے اشارے جوش نمو کے
قافلے نکلے ہیں خوشبو کے
چار طرف گلزار کے اندر
ہنگامے ہیں رنگ و بو کے
انسانی قدروں کو گنوا کر
خوش ہیں بہت شہرت کے بھوکے
رزم بھی ہم سے بزم بھی ہم سے
مالک ہیں ہم سیف و سبو کے
تاروں بھری شب کے دامن پر
چھینٹے ہیں یہ کس کے لہو کے
اردو میں اردو کی برائی
کرتے ہیں دشمن اردو کے
پنجۂ وحشت کو ہیں سکھانے
اے جرارؔ انداز رفو کے