میں اپنے طور پہ کھیلا تھا آبگینوں سے

میں اپنے طور پہ کھیلا تھا آبگینوں سے
ملا ہوں یاروں کو تحت الثری کے زینوں سے


میں ایسے شخص کی تقلید کرنا چاہتا ہوں
جو سانس لیتا رہا دوستوں کے سینوں سے


گماں گزرتا ہے دنیا کی تیز گامی سے
کہ لوگ خواب بھی دیکھیں گے دوربینوں سے


یہ تجربہ ہے مرا سرسری سی بات نہیں
کوئی بھی نکتہ ملے گا نہ نکتہ چینوں سے


ہماری آنکھوں سے آنسو گرے ندامت کے
ہے دین پھوٹ پڑا کفر کی زمینوں سے


سلامی کا ہے یہ انداز جانتا ہوں مگر
بہت سے ہاتھ ہیں ٹانکے گئے جبینوں سے


مزاج وقت محرم صفر پہ بات کریں
صدی کا کرب تو منسوب ہے مہینوں سے


یہ عالمین کی ترتیب ہی الٹ جائے
نکالا جائے مدینہ اگر مدینوں سے


میں اس دیار کی مٹی کو نور جانتا ہوں
جہاں پہ برچھیاں توڑی گئی تھی سینوں سے


یہ شام جھیل شفق معتبر ہیں اپنی جگہ
مرا مزاج ذرا مختلف ہے تینوں سے


شرافتوں میں وہ یوسف مزاج ہوتے ہیں
تمہیں ملاؤں گا غربت زدہ حسینوں سے


میں سیدھی بات کا عادی ہوں سانپ کیوں بولوں
میں اپنے یار نکالوں گا آستینوں سے