ہاں پہلے ڈرتے تھے پر اب مذاق کرتے ہیں

ہاں پہلے ڈرتے تھے پر اب مذاق کرتے ہیں
ہمارے ساتھ یہاں سب مذاق کرتے ہیں


ہم اپنی ذات کی سنجیدگی پہ ہنستے ہیں
اصول بنتے ہیں وہ جب مذاق کرتے ہیں


مجھے یقین تو ہونا کہ میں یقیناً ہوں
میں منتظر ہوں کہ وہ کب مذاق کرتے ہیں


ہمیں قبول تہجد کے وقت سے پہلے
ہم اپنی ذات سے ہر شب مذاق کرتے ہیں


شب فراق صحیفے میں جب ہے ڈھل جاتی
جو اشک زندہ ہوں وہ تب مذاق کرتے ہیں


خود اپنے جیسا انہیں بھی نہ سخت گیر بنا
کبھی کبھی تو ترے لب مذاق کرتے ہیں


میں بے سلیقہ خیالوں کا معتدل مصرع
سخنوری کے جو ہیں ڈھب مذاق کرتے ہیں


ہمیں بھی شوق ہے دیکھیں ہنسی کو بنتے ہوئے
ذرا بتاؤ نا وہ کب مذاق کرتے ہیں


میں انگلیوں کے تصرف میں روشنی رکھ دوں
بدن کے زاویے یا رب مذاق کرتے ہیں


اگر نہ پورے تقاضے ہوں عدل کے کاظمؔ
تو کرسیوں سے بھی منصب مذاق کرتے ہیں