ہے سارا لمس کا فتنہ حواس پاگل ہیں
ہے سارا لمس کا فتنہ حواس پاگل ہیں
خدا کا شکر کہ چہرہ شناس پاگل ہیں
تمہارے شہر میں پاگل وہ ہیں جو ہنستے ہیں
ہمارے شہر میں سارے اداس پاگل ہیں
وہ مجھ میں پانی پیے گی نہیں نہیں مجھ میں
جھگڑ رہے ہیں مسلسل گلاس پاگل ہیں
شعور والے ہی گولی چلانا جانتے ہیں
میں مطمئن ہوں مرے آس پاس پاگل ہیں
مجھے سمجھنے کی منزل ہے منتظر ان کی
یقینی بات ہے پاگل کی آس پاگل ہیں
میں ان سے پوچھوں گا جنت ہیں بیچتے کیسے
مجھے نواز اگر تیرے پاس پاگل ہیں
وہ اپنی صدیوں کو تشنہ دہن بنائے گئے
بجھا رہے ہیں جو لمحوں کی پیاس پاگل ہیں
ہماری وقت سے بنتی تو کس طرح بنتی
مزاج وقت کو آتے ہی راس پاگل ہیں
تمہارے بعد سیانوں کا حال کیا ہوگا
تمہارے بعد یہاں پر اداس پاگل ہیں
لباس والوں سے بڑھ کر حیا ہے آنکھوں میں
ہماری آنکھوں میں کچھ بے لباس پاگل ہیں
تجھے ستائیں گے جب تک تری رضا ہوگی
ہم ہر طرح سے طبیعت شناس پاگل ہیں
تمہارے عہد کے سو سے ہیں محترم کاظمؔ
ہمارے عہد میں جو کہ پچاس پاگل ہیں