کوئی پہلو میں صنم ہو تو غزل ہوتی ہے
کوئی پہلو میں صنم ہو تو غزل ہوتی ہے
حسن مائل بہ کرم ہو تو غزل ہوتی ہے
دل میں پنہاں کوئی غم ہو تو غزل ہوتی ہے
زندگی غم سے رقم ہو تو غزل ہوتی ہے
ہم لئے زاد سفر درد کی سوغات چلے
ہم سفر کوئی الم ہو تو غزل ہوتی ہے
دور رہ کر نہیں کھل سکتے تمنا کے گلاب
فاصلہ کچھ ذرا کم ہو تو غزل ہوتی ہے
چاند سے مکھڑے پہ بکھری ہوں جو کالی زلفیں
اور کسی زلف میں خم ہو تو غزل ہوتی ہے
کچھ تجلی رخ دل دار سے آنکھوں کو ملے
روبرو روئے صنم ہو تو غزل ہوتی ہے
وہ اگر روٹھے ہیں نیرؔ تو نہیں ہوتی غزل
ان کا الطاف و کرم ہو تو غزل ہوتی ہے