انداز فکر اپنا بدل کر تو دیکھیے
انداز فکر اپنا بدل کر تو دیکھیے
نفرت کے دائروں سے نکل کر تو دیکھیے
ہم ہیں وفا پرست یہ آ جائے گا نظر
عینک کو آپ اپنی بدل کر تو دیکھیے
منزل ضرور چومے گی قدموں کو آپ کے
عزم سفر کے ساتھ نکل کر تو دیکھیے
ہر دل عزیز آپ بھی بن جائیں گے حضور
خول انا سے اپنے نکل کر تو دیکھیے
خود مٹ کے فیض اوروں کو دینے کے لطف کو
نیرؔ شمع سا آپ بھی جل کر تو دیکھیے